حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 247
حقائق الفرقان ۲۴۷ سُوْرَةُ الشَّمْسِ اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پُر کواکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قوی کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اور کسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیونکر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَتهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا - یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلی رذائل اور اخلاق ذمیمہ سے دستبردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا۔وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا۔لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا۔بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا۔وہ اس مطلب کے پانے سے نامرادر ہے گا۔ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانونِ الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔کیونکہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ ایک مثال کے طور پر خمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہوں نے باعث اپنی جبلی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس کی تکذیب کے لئے ایک بڑا بد بخت ان میں سے پیش ( بحوالہ توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۲ تا ۸۴) قدم ہوا۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ راگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۹٬۳۲۸)