حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 232
حقائق الفرقان ۲۳۲ سُوْرَةُ الْفَجْرِ ہے تمہارے دل میں آریہ سماج کی محبت بیٹھ گئی ہے۔کیا محبت کوئی جسم ہے؟ نہیں۔اسی طرح آنا اور حرکت کرنا ایک صفت اور فعل ہے۔فلانا آدمی آیا۔یہ آنا ایک طرف ایک مکان کے چھوڑنے کو چاہتا ہے۔اور دوسری طرف ایک مکان کی طرف آنے کو۔سرور میرے دل میں آیا۔علم میرے قلب میں آیا۔مجھے سکھ ملا۔اگر بولا جائے تو یہ لازم نہیں آتا کہ سرور اور علم اور سکھ کوئی جسم ہے اور اس نے کوئی مکان ترک کیا اور سنو! تمہارے گرو نے تو اپنی دعاؤں میں الہی حرکت کو بھی مانا ہے۔دیکھو صفحہ نمبر ۴ ستیارتھ پرکاش اے پر میشور جس جس مقام سے آپ دنیا کے بنانے اور پالنے کے لئے حرکت کریں اس اس 66 مقام سے ہمارا خوف دور ہو سنو! پال اگر پر میشر حرکت کر سکتا ہے تو ملائکہ (دیو) تو محمد ود ہوتے ہیں۔ان کا حرکت کرنا کیوں حیرت انگیز ہے؟ اگر حرکت کے کوئی معنی سماج کر سکتی ہے اور روپک النکار میں اس کو لے سکتی ہے تو قرآن کریم میں مسلمان کیوں مجاز نہیں کیا جاتا۔اللہ تعالیٰ اپنے مظاہر قدرت میں جلوہ گری کرتا ہے۔وہ حلول و اتحاد سے منزہ وراء الورا مظاہر قدرت میں اپنی قدرتوں طاقتوں بلکہ ذات سے جیسے اس کی ليْسَ كَمِثْلِه ذات اور انو پیم کی شان ہے آتا ہے۔اور کہیں سے جاتا ہے۔کیا جیسے ودوان دھارمک کے ہردے میں آتا ہے ویسا ہی ڈشٹ اناڑی کے ہردے میں بھی ہوتا ہے اور آتا ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ تمہارے ہاں تو پھاند کر بھی جاتا ہے۔پھر اتنا کیا مشکل ہے۔بیجر وید اکتیسواں ادھیا کے پہلے اشلوک میں لکھا ہے۔وہ سب جگت کو النگھ کر ٹھہرا ہے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام صفحه ۱۴۴ تا ۱۴۶) ۲۴- وَ جاءَ يَوْمَبِدٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَن يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ وَ أَنَّى لَهُ الذكرى - اور اس دن دوزخ لایا جائے گا۔جب کہیں انسان سمجھے اور سوچے گا اُس وقت سوچنے سے اسے کیا فائدہ ہوگا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کا عذاب رویت عذاب سے پہلے تو بہ اور استغفار سے مل جاتا ہے۔اور