حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 233
حقائق الفرقان ۲۳۳ سُوْرَةُ الْفَجْرِ یہی سنت اللہ ہے۔مگر جب عذاب کی رویت ہو جاوے تو پھر تو بہ استغفار وا نابت الی اللہ بھی کام نہیں پڑتے۔جیسا کہ فرما یا فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَد خَلَتْ فِي عِبَادِة - (المومن : ٨٦) : (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲، صفحه ۳۲۵) -۲۵ - يَقُولُ يَدَيْتَنِي قَدَّمُتُ لِحَيَاتِي - ترجمہ۔وہ کہے گا اے کاش میں کچھ تو بھیجتا آگے اپنی اس زندگی کے لئے۔تفسیر۔حیات موت کے بعد کی جاودانی زندگی کو کہا گیا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۵) ۲۸ تا ۳۱ - يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَبِنَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً - فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي - ترجمہ۔اے اللہ کے ساتھ تسکین پائے ہوئے نفس۔تو اپنے رب کی طرف واپس آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔تو میرے خاص بندوں میں داخل ہو۔اور آمیری بہشت میں رہ جا۔تفسیر۔ہر سورۃ کے ابتدا کو اس کے آخر سے لطیف مناسبت ہوتی ہے۔سورہ شریفہ کی ابتدائی آیات میں اوقات مخصوصہ منجملہ ان کے عشرہ آخرہ رمضان المبارک اور ان کے شفع اور وتر کا ذکر تھا۔جن میں اعتکاف کیا جاتا ہے۔تخلیہ ہو اور اطمینانِ قلب نہ ہو تو وہ اوقات بابرکات بھی مفید نہیں پڑتے۔چوہر ساعت از نو بجائے رود دل بہ تنہائی اندر صفائی نه بینی ورت مال وجاہت وزرع وتجارة چو دل با خدایست خلوة نشینی ۲ لے تو اُن کو مفید نہ ہوا ان کا ایمان لانا جب کہ دیکھ چکے ہمارا عذاب۔اللہ کی عادت ہے جو اُس کے بندوں میں ہوتی رہی اور یہیں نقصان اٹھانا ہے کافروں کے لئے۔سے جب ہر وقت دل کسی نئی طرف متوجہ ہونے کے بجائے تنہائی میں ایک ہی طرف متوجہ ہوگا تو ہی تو باطن کی صفائی دیکھ پائے گا اور اگر مال و جاہ اور کھیتی باڑی اور تجارت کے دوران بھی تیرا دل خدا کی طرف متوجہ ہے تو تو خلوت نشین ہی ہے۔