حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 231 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 231

حقائق الفرقان ۲۳۱ سُوْرَةُ الْفَجْرِ اصحُبُ النَّارِ ۔ (البقرہ: ۸۲) اس کی تفصیل ہے ۔ گناہوں کا حلقہ جب چاروں طرف سے پورا ہو جاتا ہے اور کسی مربوب خدا کا تیر بھی کسی خاص وقت یا خاص جگہ سے نکل پڑتا ہے تو یہ نخچیر شکار ہو جاتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۲۵) ۱۸۔ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ - ترجمہ ۔ کچھ نہیں بلکہ تم عزت نہیں کرتے تھے یتیم کی ۔ تفسیر یتیم کے لفظ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ ہے۔ عام یتیم بھی اس سے مراد ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہتر گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزت کی جاوے۔ اور بدتر گھر وہ ہے جس میں یتیم کو دکھ دیا جاوے۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۵) ۲۳- وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا - ترجمہ اور تیرا رب تشریف فرما ہوگا اور فرشتے صف بہ صف کھڑے ہوں گے۔ وو تفسیر۔ دھرم پال کے اس اعتراض کے جواب میں کہ ” خدا کو آنے کی کیا ضرورت ہے ، آپ تحریر فرمایا۔ نے جاء فعل ہے۔ افعال اور صفات کا طریق کیا ہے؟ یہ ہے کہ فاعل اور موصوف کے لحاظ سے افعال اور صفات کا رنگ اور حالت بدلتی رہتی ہے۔ غور کرو مثلاً بیٹھنا ایک فعل ہے۔ ایک آپ کا بیٹھنا اورحالت کرو ہے اور ایک کسی جانور کا بیٹھنا۔ دیکھو اس بیٹھنے میں ایک جسم خاص کی ضرورت ہے۔ مکان کی ضرورت ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ بڑا سا ہو کا ر تھا مگر اب بیٹھ گیا ہے۔ دیکھو یہ بیٹھنا اور طرح کا ہے یا کہا جاتا ہے کہ آجکل ہند و انگلستان کے تخت پر ایڈورڈ ہفتم بیٹھا ہے۔ اس بیٹھنے میں ایڈورڈ سوتا ہو ، چلتا ہو ، کہیں کھڑا ہو ، بہر حال بیٹھا ہے۔ اب اس سے بھی لطیف موصوف اور فاعل کا حال سنو۔ تمہارے دل میں اسلام کا بغض بیٹھ گیا اے ہاں جس نے گناہ کو اپنا کسب بنالیا اور اُس کی بدیوں نے اُس کو ہر طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ آگ میں جلتے بھنتے رہیں گے ہمیشہ۔