حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 229

حقائق الفرقان ۲۲۹ سُوْرَةُ الْفَجْرِ تمہارے یہاں سے چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔كَلَّا بَلْ لَا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ - وَلَا تَخْضُونَ عَلى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (الفجر : ۱۹،۱۸) یتیموں کا تم لحاظ کرو۔وہ میرے پاس آتے ہیں۔میرے میں اتنی گنجائش نہیں۔میری اتنی آمدنی نہیں کہ سب کا خرچ برداشت کر سکوں۔مسکینوں کے کھانے کی فکر کرو۔یہاں مدرسہ میں ایک طالبعلم آیا تھا۔ایک دن مجھ سے کہنے لگا کہ یہاں جھوٹ بڑا بولتے ہیں۔لنگر خانہ میں تو پچاس ساٹھ روپے ماہوار خرچ کرتے ہوں گے مگر باہر سے ہزاروں روپیہ منگواتے ہیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا مدرسہ میں کس قدر خرچ ہوتا ہے۔کہا دس روپیہ ما ہوا را کیلے کا خرچ ہے۔آخر وہ یہاں سے چلا گیا۔تم نیک نمونہ بنو۔اگر غلطیاں ہوتی ہیں لا إلهَ إِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ پڑھو۔جناب الہی رحم فرمائیں گے۔(البدر جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۲۶ ۱ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۵٬۴) --- أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - ترجمہ۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد سے کیا معاملہ کیا۔تفسیر۔کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد کے ساتھ تمہارے خدا نے کیسا کیا۔عاد کا واقعہ ولادت آنحضرت سے پیشتر واقع ہو چکا ہے۔ایسے موقعوں میں لفظ ” دیکھا یہ معنی نہیں رکھتا کہ موجود و حاضر ہو کر بایں چشم سر دیکھا بلکہ وہ واقعات جو مسلم اور متداول لا ریب چلے آتے ہیں اور جن کی صداقت کو اخلاف واقعہ چشم دید سے کچھ کم اعتقاد نہیں کرتے۔لفظ دیکھا“ سے تعبیر کئے جاتے ہیں۔اور یہ محاورہ ہر زبان کی عام بول چال میں پایا جاتا ہے۔مثلاً کہتے ہیں۔دیکھومصر میں انگریز کیا کارروائی کر رہے ہیں۔دیکھو آئرلینڈ کے لوگ کیسا فساد مچارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اب یہ فقرات ہندوستان میں بیٹھا ہوا ایک شخص کہہ رہا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہ اس کے اس کلام کے مخاطبین ان آنکھوں سے مصر اور آئرلینڈ میں موجود ہو کر وہ کارروائی اور فساد دیکھ رہے ہیں۔ا کچھ نہیں بلکہ تم عزت نہیں کرتے تھے یتیم کی۔اور نہ ایک دوسرے کو ترغیب دلاتے تھے محتاج کو کھانا کھلانے کی۔