حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 219 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 219

حقائق الفرقان ۲۱۹ سُوْرَةُ الْغَاشِيَة عَذَابٌ اَلِيم - (الدخان : ۱۱ - ۱۲) اس سورہ شریف کی پہلی آیت میں حَدِیثُ الْغَاشِيَةِ ہے اور سورۃ الدخان میں يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ ہے۔(ضمیمه اخبار بد نمبر ۲۶ جلد ۱۲ قادیان مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۳) ٤٣ وُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ خَاشِعَةٌ - عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ - ترجمہ۔بہت سے چہرے اُس روز ذلیل اور خوار ہوں گے۔تھک رہے ہوں گے۔تفسیر۔جب قحط شدید ہوتا ہے تو فاقوں کی وجہ سے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ذلت اور مسکنت چہروں پر چھا جاتی ہے۔عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ۔لوگ یوں ہو جاتے ہیں کہ کھیتیوں زراعتوں کے پیچھے محنت کرتے تھک کر چور ہو جاتے ہیں۔مگر پیداوار کچھ نہیں ہوتی۔محنت کرنا اور تھکنا یہی پہلے پڑتا ہے۔(ضمیمه اخبار بد نمبر ۲۶ جلد ۱۲ قادیان مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۳) ۶۰۵ - تصلى نَارًا حَامِيَةً - تُسْقَى مِنْ عَيْنِ انِيَةٍ - ترجمہ۔دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ان کو پانی پلایا جائے گا ایک کھولتے ہوئے چشمہ کا۔عَذَابُ الجوع کی آگ سے شکم تنور ہو جاتا ہے۔سرد پانی کہاں جو پینے کو ملے کہیں دور دراز جگہ سے یا عمیق در عمیق چاہ سے لایا جاوے گا۔انيّة لفظ آنيا بمعنی تاخیر سے مشتق ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔يَطوفُونَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيمٍ أن - (الرحمن : ۴۵) پہاڑوں میں جہاں سے چشمے نکلتے۔بعض چشموں کا پانی نہایت سخت گرم ہوتا ہے۔پیاسے کے لئے جس کی جان جاتی ہو۔یہی گرم پانی غنیمت سمجھا جاتا ہے۔ع تشنه را دل نخواهد آب زلال کے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۳) ا جس دن آسمان لے آوے ایک ظاہر دھواں۔۲ جولوگوں کو ڈھانپ لے گا۔یہ ٹمیں دینے والا عذاب ہوگا۔پھیریں گے اس میں اور کھولتے ہوئے پانی میں۔کے پیاسے شخص کو مصفی شیر میں ٹھنڈے پانی کی آرزو نہیں ہوتی ( یعنی اس کو صرف پانی چاہیے ہوتا ہے خواہ وہ کیسا بھی ہو )