حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 215

حقائق الفرقان ۲۱۵ سُورَةُ الْأَعْلَى پاس گیا تو مشنری نے انجیل دیدی ۔ کسی کو روپیہ دید یا کسی کی دعوت کر دی۔ حد درجہ کی بے غیرتی ہے ان ظالموں نے ہمارے سب ہادیوں کو برا کہا۔ تمام کتب الہیہ کو برا کہا۔ جناب النبی کے اسماء وصفات کو برا کہا۔ اسے سمیع الدعاء علم دینے والا نہ سمجھا۔ پھر اخلاق والے بنے ہیں۔ توبہ! تو بہ ! ان کے کفارہ کا اٹو ہی سیدھا نہیں ہوتا ۔ جب تک یہ تمام جہان کے راست بازوں کو اور تمام انسانوں کو گنہگار بد کارا اور لعنتی نہ کہہ لیں ۔ ان میں خوش اخلاقی کہاں سے آگئی ۔ ان حالات میں مومن کا فرض ہے کہ جناب الہی کی تسبیح کرے۔ اس کے اسماء کی تسبیح میں کوشاں رہے۔ اس کے انتخاب شدہ بندوں کی تسبیح کرے۔ ان پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ۔ جو عیوب ان کی طرف شریر منسوب کرتے ہیں ۔ ان کا دفاع وذب کرے اور سمجھائے کہ جنہیں میرا رب برگزیدہ کرے، وہ بدکار اور لعنتی نہیں ہوتے۔ ان کی تسبیح خدا کی تسبیح ہے۔ یہ معنے ہیں سبح اسم رَبِّكَ الْأَعْلیٰ کے۔ الَّذِي خَلَقَ فَسَوی ۔ تمہارا خدا تو ایسا ہے کہ اس کی مخلوقات سے اس کی تسبیح و تقدیس عیاں ہے۔ اس نے خلق کیا اور پھر تمہارے اندر نسلِ انسانی کو ایسا ٹھیک کیا کہ سب کچھ اس کے ماتحت کر دیا۔ آگ، پانی، ہوا سب عناصر کو تمہارے قابو میں کر دیا۔ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَی۔ پھر چونکہ سارے جہان نے اس سے کام لینا تھا اس لئے ہر مخلوق کو ایک ضابطہ و قانون کے اندر رکھا تا کہ انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکے اور خدمت لے سکے ۔ مثلاً یہ عصا ہے میں اس سے ٹیک لگا تا ہوں ۔ اگر بجائے ٹیک کا کام دینے کے یہ یکدم چھوٹا ہو جائے یا مجھے دبائے یا اپنی طرف کھینچ لے تو میرے کام نہیں آ سکتا۔ پس اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ہر چیز کا ایک انداز مقرر کیا یعنی جس ترتیب سے وہ چیز مفید و با برکت ہو سکتی ہے۔ اُس ترتیب سے اُسے بنا دیا اور پھر انسانوں کو اس سے کام لینا سکھایا۔ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى فَجَعَلَهُ غُفَاء اخوی - پھر ان چیزوں پر غور کریں تو ان کا ایک حصہ ردی اور پھینک دینے کے قابل بھی ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے۔ مثلاً کھیتی ہے پہلے پھل دیتی ہے۔ لوگ مزے