حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 214

حقائق الفرقان ۲۱۴ سُوْرَةُ الأعلى کے، حضرت موسی کے الغرض جس قدر انبیاء اور راست باز پاک انسان گزرے ہیں ان کے ذمہ چند عیوب لگائے ہیں۔پھر ہماری سرکا ر ہے احمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو ان کو خاص نقار ہے اور دھت ہے ان کو گالیاں دینے کی۔باوجود اس گندہ دہنی کے پھر بھی ایسے لوگوں کو کوئی بڑے اخلاق والا کہتا ہے تو اس کی غیرت دینی پر افسوس۔ایک شخص تمہارے پاس آتا ہے اور تم کو آکر کہتا ہے۔میاں تم بڑے اچھے بڑے ایمان دار۔آئیے تشریف رکھئے ، باپ تمہارا بڑا ڈوم، بھڑوا، کنجر بڑا حرام زادہ، سؤر، ڈاکو، بدمعاش تھا۔تم بڑے اچھے آدمی ہو اور ساتھ ساتھ خاطر داری کرتا جائے تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے۔تمام جہاں کے ہادیوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ بیان کی جاتی ہے۔اور میرا تو اعتقاد ہے کہ ان کو کوئی نہیں گن سکتا۔بد کار گنہ گار کہنے والا ایک شخص کی مزوّرانہ خاطر داری سے خوش اخلاق کہلا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے برگزیدوں کی تو ہتک کرتے ہیں اور تم ان کی نرمی اور خوش اخلاقی کی تعریف کرو حد درجہ کی بے غیرتی ہے۔یہاں تک تو انہوں نے کہہ دیا کہ شریعت کی کتابیں لعنت ہیں۔پرانی چادر ہیں۔ان کتابوں کو جو حضرت رب العزت سے خلقت کی ہدایت کے لئے آئیں لعنت کہنا کسی خوش اخلاق کا کام ہو سکتا ہے۔دیکھو گلیتیوں کا خط کہ اس میں شریعت کو لعنت لکھتا ہے۔پھر خدا سے بھی نہیں ملے۔کہتے ہیں، اس کا بیٹا ہے تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَنَّا اَنْ دَعَوا لِلرَّحينِ وَلَدًا- (مریم: ۹۱ - ۹۲) پھر اس بیٹے پر اس غضب کی توجہ کی ہے کہ اپنی دعائیں بھی اسی سے مانگتے ہیں۔بیٹے پر ایمان لانے کے بڑوں کسی کو نجات نہیں۔خدا کسی کو علم نہیں بخش سکتا۔یہ تو روح القدس کا کام ہے نہ اللہ تعالیٰ کا۔غرض اس درجہ بداخلاقی سے کام لینے والوں کو خوش خلق کہنا محض اس بناء پر کہ جب کوئی ان کے ل قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ کانپ کے گر پڑیں۔اس وجہ سے کہ انہوں نے رحمن کا بیٹا ٹھہرایا۔