حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 213

حقائق الفرقان ۲۱۳ سُوْرَةُ الأعلى کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔اب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں کوئی برا کہے یا تمہارے ماں باپ یا بھائی بہن یامحبوب کو سخت ست کہہ دے تو تمہیں بڑا بڑا جوش پیدا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہو۔لیکن جس وقت اللہ کے کسی فعل پر ( کہ وہ بھی اس کے کسی اثم کا نتیجہ ہے ) کوئی نادان یا شریر اعتراض کرتا ہے تو تم کہتے ہو۔جانے دو۔کافر ہے۔بکتا ہے۔اس وقت تمہیں یہ جوش نہیں آتا حالا نکہ جن کے لئے تم نے اتنا جوش دکھایا ان میں تو کچھ نہ کچھ نقص یا عیب و قصور ضرور ہوگا۔مگر اللہ تو ہر برائی سے منزہ، ہر حمد سے محمود ہے ہر وقت تمہاری ربوبیت کرتا ہے۔اب جو اس کے اسماء کے لئے اپنے تئیں سینہ سپر نہیں کرتا وہ نمک حرام ہی ہے اور کیا ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوئی پڑھے ہوئے ہیں۔جولوگوں سے مباحثے کرتے پھریں؟ تعجب کی بات ہے کہ اگر کوئی ان کے ماں باپ یا بھائی بہن کو یا کسی دوست کو یا خودان کو برا کہہ دے تو وہ نا خواندگی یاد نہیں رہتی۔اور سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں۔اور پھر جس طریق سے ممکن ہو۔اس کا دفاع کرتے ہیں۔مگر جناب الہی سے غافل ہیں۔اسی طرح خدا کے برگزیدوں پر طعن کرنا دراصل خدا تعالی کی برگزیدگی پر طعن رکھنا ہے۔اس کے لئے بھی مومنوں کو غیرت چاہیے۔بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے۔شیعہ محلہ میں رہتے ہیں۔ان کے تبرے سنتے سنتے کچھ ایسے بے غیرت ہو جاتے ہیں کہ کہنے لگتے ہیں صحابہ کو برا کہنا معمولی بات ہے۔حالانکہ ان کی برائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر حملہ ہے جس نے ان کو تیار کیا۔اسی طرح مشنری عیسائی بڑی بد اخلاق قوم ہے۔کوئی خلق ان میں ہے ہی نہیں ایک شخص نے کہا۔ان کی تعلیم میں تو اخلاق ہے اور ایک نے کہا ان میں بڑا خلق ہے۔ایسا کہنے والے نادان ہیں ان کے ہاں ایک عقیدہ ہے۔نبی معصوم کا جس کے یہ معنے ہیں۔ایک ہی شخص دنیا میں ہر عیب سے پاک ہے۔باقی آدم سے لے کر اس وقت کے کل انسان گنہ گار اور بدکار ہیں۔ان لوگوں نے یہاں تک شوخی سے کام لیا ہے کہ حضرت آدم کے عیوب بیان کئے۔پھر حضرت نوح کے، حضرت ابراہیمؑ