حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 208
حقائق الفرقان ۲۰۸ سُوْرَةُ الأعلى نظر آتا ہے۔اس کے لئے ہوا کی ضرورت ہے۔کھانے پینے ، پہننے ، مکان کی ضرورت ہے۔کوئی اس کا یار و غمگسار ہو۔اس کی ضرورت ہے۔دور دراز ملکوں کے دریاؤں کے اس پار جانے کی ضرورت ہے۔زمیندار کو کھیت کی ضرورت ہے۔کیا زمین انسان بنا سکتا ہے۔پھر ہل کے لئے لکڑیاں چاہیں۔مضبوط درخت ہو جب جا کر ہل بنتے ہیں۔ہل کے لئے لوہے کی بھی ضرورت ہے۔پھر اوزار بھی لو ہے کے ہوتے ہیں۔لوہے کا بھی عجیب کارخانہ ہے۔لوہا کانوں سے آتا ہے۔جس کے لئے کتنے ہی مزدوروں کی ضرورت ہے۔پھر اور کئی قسم کی محنتوں اور مردوں کے بعد ہل بنتا ہے۔مگر یہ بل بھی بیکار ہے جب تک جانور نہ ہوں۔پھر جانوروں کے لئے گھاس چارہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔پھر اس ہل چلانے میں علم ، فہم اور عاقبت اندیشی کی ضرورت ہے۔چنانچہ انہی کی مدد سے چھوٹے چھوٹے جتنے پیشے بنتے ہیں۔وہ عالی شان بنتے ہیں۔مثلاً چکی پینا ایک ذلیل کسب تھا۔علم کے ذریعہ ایک اعلیٰ پیشہ ہو گیا۔یہ جو بڑے بڑے ملوں کے کارخانے والے ہیں۔دراصل چکی پینے کا ہی کسب ہے اور کیا ہے۔ایسا ہی گاڑی چلانا۔کیا معمولی کسب تھا۔گاڑی چلانے والا ہندوستان میں لنگوٹ باندھے ہوتا تھا۔اب گاڑی چلانے والے کیسے عظیم الشان لوگ ہیں یہ بھی علم ہی کی برکت ہے۔حجام کا پیشہ کیسا ادائی سمجھا جاتا۔یہی لوگ مرہم پٹی کرتے اور ہڈیاں بھی درست کر دیتے۔اسی پیشے کو علم کے ذریعے ترقی دیتے دیتے سر جنی تک نوبت پہنچ گئی ہے۔اور سرجن بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے۔میں نے تاجروں پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ سر پر بوجھ اٹھائے وہ در بدر پھر رہے ہیں۔رات کسی مسجد میں کاٹتے ہیں۔مگر اب تو تجارت والوں کے علیحدہ جہاز چلتے ہیں۔وہ حکومت بھی دیکھی ہے کہ دس روپے لینے ہیں اور ایک زمیندار سے دھینگا مشتی ہو رہی ہے یا اب منی آرڈر کے ذریعہ مالیہ ادا کر دیتے ہیں۔سنسان ویران جنگلوں کو آباد کر دیا گیا ہے۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے کہ اس سے ادنی چیز اعلیٰ ہو جاتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس جسم کے علاوہ کچھ اور بھی