حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 209
حقائق الفرقان ۲۰۹ سُوْرَةُ الأعلى عطا کیا ہے۔یہ آنکھیں نہیں دیکھتیں۔جب تک اندر آنکھ نہ ہو۔زبان نہیں بولتی جب تک اندر زبان نہ ہو کان نہیں سنتے جب تک اندر کان نہ ہوں۔مگر یہ تو کا فرکو بھی حاصل ہے۔اس کے علاوہ ایک اور آنکھ وزبان و کان بھی ہے جو مومن کو دیئے جاتے ہیں۔یہ وہ آنکھ ہے جس سے انسان حق و باطل میں تمیز کرسکتا ہے۔حق و باطل کا شنوا ہو سکتا ہے۔حق و باطل کا اظہار کر سکتا ہے۔اگر انسان حق کا گویا وشنوا و بینا نہ ہو تو صم بكم عمری کا فتوی لگتا ہے۔اللہ جلشانہ جس کو آنکھ دیتا ہے۔وہ ایسی آنکھ ہوتی ہے کہ اس سے خدا کی رضا کی راہوں کو دیکھ لیتا ہے۔پھر ایک آنکھ اس سے بھی تیز ہے۔جس سے مومن اللہ کی راہ پرعلی البصیرت چلتے ہیں پھر اس سے بھی زیادہ تیز آنکھ ہے جو اولوالعزم رسولوں کو دی جاتی ہے۔ان حواس کے متعلق اللہ اپنے پاک کلام میں وعظ کرتا ہے۔دیکھو آج لوگوں نے کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کیا ہے۔غسل کیا ہے۔لباس حتی المقدور عمدہ و نیا پہنا ہے۔خوشبو لگائی ہے۔پگڑی سنوار کر باندھی ہے۔یہ سب کچھ کیوں کیا۔صرف اس لئے ہم باہر بے عیب ہو کر نکلیں۔بہت سے گھر ایسے ہوں گے جہاں بیوی بچوں میں اسی لئے جھگڑا بھی پڑا ہوگا۔اور اس جھگڑے کی اصل بناء یہی ہے کہ بے عیب بن کر باہر نکلیں۔جس طرح فطرت کا یہ تقاضا ہے اور انسان اسے بہر حال پورا کرتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارا مربی، میں تمہارا حسن ہوں جیسے تم نے اپنے جسم کو مصفی و مطہر بے عیب بنا کر نکلنے کی کوشش کی ہے۔ویسے ہی تم اپنے رب کے نام کی بھی تسبیح کرتے ہوئے نکلو اور دنیا والوں پر اس کا بے عیب ہونا ظاہر کرو۔ادنی مرتبہ تو یہ ہے کہ مومن اپنی زبان سے کہے۔سبحان اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پھر وہ کلمات جن سے میں نے اپنے خطبہ کی ابتداء کی اللہ اکبر اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ اللهُ أَكْبَرُ ولله الحمد۔اس میں بھی اس کی کبریائی کا بیان ہے۔پھر اس سے ایک اعلیٰ مرتبہ ہے۔وہ یہ کہ یہ تسبیح دل سے ہو۔کیونکہ یہ جناب الہی کے قرب کا موجب ہے۔لے جمعہ کا دن