حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 203
حقائق الفرقان کوشش تو بہت کی مگر ہماری محنت کا ثمرہ نہ ملا یہ بدظنی چھوڑ دو۔دوم۔اپنے چال چلن سے خدا تعالیٰ کی صفات کی عزت اور حرمت کرو۔سوم۔اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی پر کوئی اعتراض کرے تو اس کا جواب دو۔سُوْرَةُ الأعلى الحکم جلدے نمبر ۳۶ مورخہ ۳۰ ستمبر ۱۹۰۳ صفحه ۴) ۳ ۴ - الَّذِي خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى - ترجمہ۔جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کر دیا۔اور جس نے اندازہ کیا پھر راستہ دکھا دیا۔تفسیر خکلی تسویه، تقدیر اور ہدایت ان چار باتوں کو علی الترتیب علت اور معلول کے سلسلہ۔میں بیان فرما کر حصول ترقی کے لئے راہ سمجھائی ہے۔روئے سخن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔اور مفہوم کے اعتبار سے ہر ترقی کے خواہاں کے لئے اس میں ہدایت ہے۔آیت الَّذِي خَلَقَ فَسَوی میں آریہ کا رد ہے جو خلقِ عالم کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔اس مضمون کو بلفظ دیگر قر آن شریف میں یوں ادا فر مایا ہے۔الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى - (طه: ۵۱) ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ / جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۱) ۶،۵ - وَالَّذِى اَخْرَجَ الْمَرْعَى فَجَعَلَهُ غُتَاءَ أحوى - ترجمہ۔اور جس نے تازہ گھاس نکالا۔پھر اس کو کوڑا کرکٹ بنادیا۔تفسیر۔مرغی۔زمینی گھانس پات سبز - مختا خشک کوڑا کرکٹ۔نقاء جمع ہے۔اس کا واحد۔آپ ہے۔اس حفاة آیا کرتا ہے۔اخوی۔حُون سے مشتق ہے۔سبزی کے بعد کسی چیز کا سیاہ ہو جانا حوۃ ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مقابلہ میں کفار کا جو انجام ہو نیوالا تھا۔ان دو آیتوں میں دکھلایا ہے۔جو خس کم جہاں پاک کے مصداق ہو گئے۔روئے سخن۔ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ ، ربیعہ وغیرہ اس وقت کے کفار کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے مصداق اس کے ہر صادق ، راست باز کے معاند ا جس نے ہر ایک شے کو عطا فرمائی اس کی اصلی صورت، پھر اس کی ضرورت کے رستے بنادیئے۔