حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 202
حقائق الفرقان ۲۰۲ سُورَةُ الأعلى سُوْرَةُ الْأَعْلَى مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ اعلیٰ کو اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے پڑھنا شروع کرتے ہیں۔٢ - سَبِّحِ اسْمَ رَبَّكَ الْأَعْلَى - تفسیر۔اپنے عالی شان رب کا پاکی سے نام لیا کر۔سیح۔پاکی بیان کر۔شرک وغیرہ کے عیوب سے اس کی تنزیہ کر۔آیت شریف میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہے۔سبوحیت ، ربوبیت اور علو شان۔اس کے تحت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تین پیشگوئیاں تھیں۔جو بڑی صفائی سے پوری ہوئیں۔آپ جنون، افتراء وغیرہ عیوب سے پاک تسلیم کئے گئے۔آپ کی ربوبیت مکی زندگی کی ادنیٰ حالت سے تدریجا یوما فیوم بڑھتی گئی اور اعلیٰ ترین مقام پر یہاں تک پہنچائی گئی کہ و رأيت النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا - (النصر :٣) : اور اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي - (المائدة : ۴) کی آواز آپ نے سن لی۔روئے سخن پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے ہر صادق راست باز کے لئے عام مخاطبت ہے۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۱) سيح اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (الاعلی:۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا کام ہے کہ وہ اپنے رب کے اسماء کی تنزیہ کرتا رہے اور وہ تین طرح سے ہوتی ہے۔اول۔اللہ تعالیٰ پر بعض لوگ بدظنی کرتے ہیں اور اپنے اوپر نیک ظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے ے اور تو دیکھے لوگوں کو کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔سے اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔