حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 201
حقائق الفرقان ۲۰۱ سُوْرَةُ الطَارِقِ معنے میں آیا کرتا ہے۔جیسے نحوی اسم فاعل بمعنے امر سے تعبیر کرتے ہیں۔جیسے رُوَيْد زَيْدًا ای (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ / جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۲۱) جب آنحضرت اور ان کے اصحاب قلت تعداد اور بے سروسامانی کے باعث مکے سے نکالے أتْرُكُهُ وَدَعُه۔گئے تو اُن سے اور ان کے بادی سے قرآن نے پیشین گوئی کے طور پر فرمایا: فَمَهْلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلُهُم رُوَيْدا۔(الطارق : ۱۸) اور اپنے آپ کو چونکہ موسیٰ کے مثیل کہا تھا اس لئے آپ نے دل بھر کے موسی کے اتباع کا حال سنایا وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا (الاعراف: ۱۳۸) اور صاف صاف تاکیدی الفاظ سے مکے میں یہ آیت پڑھ پڑھ کر سنائی۔إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُكَ إِلى مَعَادٍ ( القصص : ٨٦) یہ پیشین گوئیاں صاف صاف پوری ہو گئیں کہ تھوڑے عرصے میں کل سرزمین مکہ پر اہلِ اسلام کا فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۸،۲۵۷) تسلط ہو گیا۔لے ان کا فروں کو کچھ مدت فرصت دے۔ہے اور ہم نے انہیں لوگوں کو جنہیں وہ ضعیف سمجھتے تھے زمین ( مکہ ) کی مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنایا۔سے بے شک وہ جس نے تجھے قرآن کا پابند بنایا یقینا تجھے اصلی وطن (مکہ) میں پھیر لے جائے گا۔