حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 188
حقائق الفرقان ۱۸۸ سُوْرَةُ الْبُرُوج ہوئے وہ دن بھی آجاوے۔جب کہ کفار مکہ (اصحاب خندق کی طرح) ذلت اور ہلاکت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہوں اور پھر اس یوم موعود کی قسم ہے۔جس دن جلال الہی کا نظارہ لوگوں کی نظر میں جلوہ گر ہو۔اور پھر اس شخص کی قسم ہے۔جو اس روز شاہد (حاضر) ہو اور یہ نظارہ جلالت الہی کا اپنی نظروں سے دیکھے۔اور مشہور ( یعنی حاضر کئے گئے ) کی قسم جن لوگوں کا نظارہ اہل بصیرت اسی دن مشاہدہ کریں گے۔یہ وہ دن ہو گا کہ لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کو سمجھیں گے اور اس کے وعدوں کو سچا پائیں گے۔کفار ناہنجار اسی طرح ہلاک ہو جائیں گے۔جس طرح پر اصحاب اخدود یعنی کھائی والے ہلاک کئے گئے۔اور خدا کی عجیب قدرت نمایاں ہوگئی۔مختصر حال اصحاب خندق کا یہ ہے کہ ایک عیسائی لڑکا بڑا خدا پرست اور صاحب کرامت تھا۔چنانچہ کئی آدمی اس کی کرامتیں دیکھ کر اور وعظ سن کر ایمان لے آئے۔اس وقت کا بادشاہ جو بہت بڑا بت پرست تھا لوگوں کو جبراً بت پرستی کرا یا کرتا تھا۔چنانچہ اس نے جب ان لوگوں کا حال سنا۔تو سخت برافروختہ ہوا اور ان لوگوں کو زجر و توبیخ کے بعد بت پرستی کے لئے مجبور کیا۔جب انہوں نے نہ مانا تو زمین میں ایک لمبا چوڑا گڑھا کھدوایا۔اور اسے آگ سے بھروا کر ان آدمیوں کو وہاں ڈلوا دیا۔وہ یہ ظلم کر ہی رہا تھا کہ دفعتہ وہ آگ اس شدت سے مشتعل ہوئی کہ اس کی لپٹ بادشاہ اور امراء تک جا پہونچی۔سب کے سب قہر الہی کی آگ میں بھسم ہو گئے یہ قصہ ایک عبرتناک واقعہ اور زبردست پیشگوئی تھی۔کفار مکہ کے لئے جو مسلمانوں کو سخت دکھ دے رہے تھے۔انہیں ایمان لانے سے روکتے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے۔کئی کو صلیب پر چڑھا دیا۔زندوں کو تپتی ہوئی ریت میں ڈال دیتے تھے۔کئی صحابہ کو جان سے مار ڈالا۔خدا تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت سے نجات دے دی اور ڈرایا کہ اِنَّ بَطْشَ رَبَّكَ لَشَدِيدُ (اے نبی ) بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔چنانچہ آخر کار اللہ تعالیٰ ان کفار کو ایسا پکڑا کہ سب کے سب فناو نیست و نابود ہو گئے۔اور جس طرح اصحاب خندق اسی نار میں جل مرے۔جل سے مومنوں کو جلا رہے تھے۔اسی طرح کفار مکہ بھی اسی تلوار سے مارے گئے۔جو مسلمانوں کی ایذا اور قتل کے لئے انہوں نے نکالی۔خیال کرنا چاہیے کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی سامان تھا؟ جس کے بھروسے پر آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی، ہرگز نہیں۔آپ بالکل