حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 184 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 184

۱۸۴ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ حقائق الفرقان یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی۔انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا۔یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے۔جس کو ہم کر نیوالے ہیں۔بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے۔جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں۔وَتَكُونُ السَّمَوتُ بِيَمِينِهِ یعنی لینے کے یہ معنے ہیں کہ خداوند تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے۔اُس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویۂ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہریہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر ایک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۸۲۷) يمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ - (المومن : ۱۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قہری تجلی سے ہر ایک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت دکھلائے گا۔اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر بہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا۔کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم وعلیم کی شان کے لائق نہیں ہیں۔صرف یہ انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے۔جس کا کوئی وعدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے مواقع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا اور بایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے۔نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدے، اس کی صفات قدیمہ کے تقاضے کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اُس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱ مورخه ۱۳ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۶) ا ہر ایک جو اس پر ہے فنا ہونے والا ہے۔اور باقی رہے گی ذات تیرے رب کی جو جلال اور بزرگی والی ہے۔جس دن کہ وہ نکل کھڑے ہوں گے۔چھپی نہ رہے گی اللہ پر ان کی کوئی چیز (اللہ فرمائے گا) آج کس کی بادشاہی ہے؟ ( ندا ہوگی ) اکیلے اللہ کی جو بڑاز بردست ہے۔