حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 181

حقائق الفرقان ۱۸۱ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ ۱۷ تا ۲۰ - فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَالَّيْلِ وَ مَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ لَتَرْكَبُنَ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ - ترجمہ۔میں شفق کی قسم کھاتا ہوں۔اور رات کی اور جس کو رات ڈھانپ لے اس کی۔اور چاند کی جب وہ پورا ہو جائے۔کہ تم درجہ بدرجہ چڑھتے چلے جاؤ گے۔تفسير لا أقسم کی توجیہہ سورۃ القیامۃ میں بیان ہو چکی ہے۔شفق غروب آفتاب سے قبل اور بعد کی سرخی۔وسق کے معنے جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔رات جَامِعُ الْمُتَفَرِّقِين ہے چرند پرند، حیوانات، انسان سب رات کو اکٹھے ہو جاتے ہیں۔اتَّسَقَ چاند کا بھر پور ہونا ہے اور یہ تدریجا ہوتا ہے۔اسی کو لتركبونَ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ میں واضح فرمایا۔سورۃ التکویر میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک سے آپ کے زمانہ میں جو ترقیات ہونے والی تھیں ان کو وَ الصبح اذا ہے تنفّس - التكوير : ١٩) فرما کر ذکر فرمایا۔اور اس جگہ ان آیات باب میں آپ کے خلیفوں کے ذریعہ سے جو ترقیات مقدر تھیں ان کا ذکر فرمایا ہے۔شفق نور نبوت کا دنیا سے رحلت فرمانا ہے اور یہ زمانہ کسی قدر خوف آمیز بھی ہوتا ہے۔شفق کے لفظ میں اور لَيُبَتِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمنا۔( النور : ۵۶) میں ایک لطیف مناسبت ہے۔صدیق اکبر کے ابتدا زمانہ خلافت میں ارتداد عرب سے یہ شفق اور خوف دونوں واقع ہو گئے۔بعد اختلاف یسیر کے مہاجرین وانصار کا اتفاق اور ایک خلیفہ کے ہاتھ پر ان کا جمع ہو جانا اسی ظلمت کے وقت میں وَ اللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ کا ایک عجیب نظارہ تھا اور اب تو خداوند کریم کے فضل سے ایام بیض ولیالی بدر ہیں۔جووَ الْقَمَرِ کے اِذَا اتَّسَقَ کے مصداق ہیں اور یہ جملہ ترقیات چونکہ تدریجا ہیں اس لئے لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ فرمایا۔زبان انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے۔جو لَتَز گئِنَّ الآیہ سے موافقت رکھتی ہے فورٹ از ناٹ پیلٹ ان اے ڈے قمر کی تدریجی ترقی بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ہمارا بدر پہلے البدر تھا اور اب خدا کے ے اور صبح کی جب وہ سانس لے۔۲ے اور ان کو خوف کے بدلے میں امن عنایت فرمائے گا۔(FORT IS NOT BUILT IN A DAY) یعنی قلعہ ایک ہی دن میں نہیں بن جاتا۔