حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 180 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 180

حقائق الفرقان ۱۸۰ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ حساب یسیر صرف بندہ کے لئے اس کے اعمال کا اس کے سامنے پیش کر دینا ہے۔اور اس کی خطاؤں سے چشم پوشی و در گزر کرنا ہے۔امام احمد، حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی اللهُم حَاسِبْنِی حِسَابًا يسيرًا۔پوچھا کہ حساب بیسیر کیا ہے فرما یا صرف نامہ اعمال کا پیش کرنا اور درگز رفرمانا ہے۔اور فرمایا۔مَن نُوقِشَ فِي الْحِسَابِ عُذِّبَ جس کے حساب میں کرید کی گئی۔وہ مُعَذَب ہو گا۔ابوھریرہ سے مروی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔تین خصلتیں ہیں کہ ان سے حساب یسیر ہو گا۔ایک یہ کہ جو اسے محروم رکھے اور نہ دے۔اس کو دیا کرے۔دوسرے یہ کہ جو ظلم کرے اس کو معاف کرے۔تیسرے جو اس سے قطع رحمی کرے وہ اس سے وصل کرے۔(انَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ) ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۱۳ رجون ۱۹۱۲ صفحه ۳۱۵) ۱۴- إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا - ترجمہ۔کیونکہ وہ اپنے گھر والوں میں خوشحال رہا کرتا تھا۔تفسیر۔اس آیت کے بالمقابل دوسری جگہ مومنوں کی صفت یوں فرمائی ہے۔لے إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ - (الطور : ۲۷) مومن کو دنیا میں ہزار قسم تنعم ہو مگر آخرت کی فکر جاں گداز رہتی ہے۔اور دنیا کی راحت ان پر تلخ رہتی ہے ولنعیم ما قيل۔مرا در منزل جاناں چہ امن و عیش چوں ہر دم جرس فریاد میدارد که بر بندید محملها " اور بھی کسی نے کہا ہے۔عشرت امروز بے اندیشه فردا خوش است ذکر شنبه تلخ دارد جمعه اطفال را کے (ضمیمه اخبار بد ر نمبر ۲۶ جلد ۱۱ قادیان مورخه ۱۳ / جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۵) ا ہم تو پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرا کرتے تھے۔۲ جانان کے گھر جا کر بھی کیا امن و عیش حاصل ہو گا کیونکہ ہر وقت گھنٹی یہی صدا دیتی ہے کہ سامان سفر تیار کرو۔سے آج کی آسودگی کل کا سوچے بغیر ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ ہفتہ کا ذکر کرنے سے بچوں کی جمعہ ( کی چھٹی) کا مزا کر کرا ہو جاتا ہے۔