حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 170 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 170

حقائق الفرقان سُورَةُ الْإِنْقِطَارِ ۱۲ ، ۱۳ - كرا ما كَاتِبِينَ - يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ - ترجمہ۔بزرگ لکھنے والے۔وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔تفسیر۔نامہ اعمال کے لکھے جانے اور اس کے محفوظ رہنے پر جن لوگوں کو استبعاد عقلی معلوم ہوتا ہے وہ آجکل کے ایک نو ایجاد آلہ گراموفون ہی کو دیکھ لیں کہ کس طرح ریکارڈ اس میں محفوظ رہتا ہے۔اور دوبارہ چکر دینے سے کس طرح ذراذراسی حرکات یہاں تک کہ کھانسی اور تنفس کی کمی زیادتی بھی اس سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔آواز آ رہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈ وخدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱ ۱ مورخه ۱۳ /جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۳) لے وَمَاهُمْ ١٦ ١٧ - يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ وَمَاهُمْ عَنْهَا بِغَابِبِينَ۔ترجمہ۔اس میں داخل ہوں گے جزا کے دن۔وہ اس سے کبھی غائب نہ ہوں گے۔تفسیر دوزخیوں کے ذکر میں وَمَاهُمْ عَنْهَا بِغَابِبِین فرمایا۔مگر جنتیوں کے ذکر میں وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ۔(الحجر: ۴۹) فرمایا۔ان دونوں آیتوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی دوزخ میں گوا حقاب در احقاب مدت تک رہیں اور گو وہ اپنی مدت لبث میں ذراسی دیر کے لئے بھی دوزخ سے غائب نہ ہو سکیں۔مگر بالآخر وه مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ کے مصداق نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر استدلال کے طور پر فرمایا کرتے تھے يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَنَسِيمُ الصَّبَا تحرك أبوابها۔غالبا یہ عبارت تفسیر معالم میں ہے۔عطا غَيْرَ منذُوذ " (هود: ۱۰۹) اور فَقَالُ لما يريد البروج: ۱۷) سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔اور اس سورہ شریفہ کے رب کریم کے لفظ سے بھی یہی پتہ لگتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد۱۱ مورخه ۱۳ جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۳) ا اور وہاں سے کبھی نکالے بھی نہیں جائیں گے۔۲ جہنم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ اس میں کوئی نہ ہوگا اور نسیم الصبا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔سے یہ بخشش ہے غیر منقطع بے انتہا۔ہے جو چاہتا ہے اس کو بخوبی کر لیتا ہے۔