حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 164

حقائق الفرقان ۱۶۴ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ ۲ تا ۲۳ - إِنَّهُ لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ - ذِى قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينِ۔مطَاعِ ثُمَّ آمِيْنِ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ - ترجمہ۔بے شک یہ صاحب عزت رسول کا کلام ہے۔جو قوت دار ہے۔عرش عظیم کے مالک کے نزدیک بڑا درجہ پایا ہوا ہے۔اطاعت کیا گیا اللہ کے پاس بڑا امانت دار ہے۔اور تمہارا صاحب کچھ بھی دیوانہ نہیں ہے۔تفسیر۔اس قدر کلام ذوالمعارف بیان فرمانے کے بعد رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے جنون کے الزام کو دفع کیا اور استشہاد کیا۔اس ذو المعارف و پر از حقائق کلام سے کہ کیا مجنون ایسے مدلل اور پر معانی عبارات بیان کر سکتا ہے۔مجنون تو بے تکی باتوں میں پکڑا جاتا ہے۔مجنون کے ساتھ صَاحِبُكُمْ کے لفظ کے لانے سے یہ غرض ہے کہ جنون کی پہچان چند ساعت یا چند روزہ مصاحبت سے خوب اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے۔اور سورۃ ن وَالْقَلَمِ میں یہ سمجھایا کہ تحریر میں مجنون ذرا بھی بار بط عبارت سے نہیں چل سکتا۔آیہ کریمہ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ - (سبا: ۴۷) میں بھی مصاحبت ہی سے جنون کو پہنچنوایا ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسی دنیا میں مکرم ، ذی قوۃ ، مکین اور مطاع ہو جانا بھی بیان فرمایا ہے۔یہ صفتیں جبرائیل کی بھی ہیں۔اس صورت میں قول کے معنے قرآت جبرائیل کے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر نمبر ۲۶ جلد ۱۱ا قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۱) یعنی وہ رسول ہے اعلیٰ درجہ کی عزت والا ، طاقتوں والا ، رتبے والا اور ملائکہ اس کے ماتحت چلتے ہیں۔اللہ کی رحمتوں کے خزانہ کا امین ہے۔(اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۳) -۲۵- وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ - ترجمہ۔وہ تو غیب کی بات بتانے پر بخل کرنے والا نہیں ہے۔ا تمہارے صاحب کو کچھ بھی جنون نہیں۔