حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 151
حقائق الفرقان ۱۵۱ سُوْرَةُ عَبَسَ گا۔میں اسے ذلیل کروں گا۔یہی قتل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۸) ۲۲ - ثُمَّ اَمَانَهُ فَاقْبَرَة - ترجمہ۔پھر اُس کو اللہ نے مارا اور اُسی نے اس کو گاڑا۔تفسیر۔قبرہ۔قبر میں رکھا اس کو اور اقبرہ قبر میں رکھوا یا اس کو۔۲۸ - فَانبَتْنَا فِيهَا حَبَّا - ترجمہ۔پھر ہمیں نے اس میں اناج اگا یا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۸) تفسیر۔ہر قسم کے دانوں اور اناج کو کہتے ہیں۔لغت میں اس کے معنے پر ہونے کے ہیں۔جب تک دانہ خام رہتا ہے اور مغز سے پوری طرح بھر نہیں جاتا۔جب نہیں کہلا تا۔محبت پورے کمال کے ساتھ سوائے ذات محبوب حقیقی کے کسی سے جائز نہیں۔وَالَّذِينَ آمَنُوا اشَدُّ حُبَّالِلهِ - (البقره: ۱۲۲) اس کے بالمقابل سورۃ یوسف میں فرمایا ہے۔قَدْ شَغَفَهَا حُيًّا - (يوسف:۳۱) حدیث شریف میں ہے حُبكَ لِشَيْءٍ يُعْمِيكَ وَيُصِم - محبت کسی چیز کی انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔حضرت صاحب کی ایک نظم دعوی سے پیشتر کی ہے۔جس کا مطلع شعر یہ ہے۔اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی اس آیت میں حب یعنی پر مغز دانوں کا بیان ہے۔انسان کو بھی چاہیے کہ اپنے آپ کو جب اور حَبّ پُر مغز بنائے پک کے گر جاتا ہے میوہ خاک پر خام ہے جب تک رہے افلاک پر ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۸) لے اور ایمان داروں کو تو ( سب سے بڑھ کر اللہ ہی کی محبت ہوتی ہے۔ہے دل چیر کر یوسف کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوگئی ہے۔۳۔اے محبت تو نے عجیب آثار دکھلا دیئے ہیں کہ یار کی رہ میں پہنچنے والے زخم اور مرہم دونوں کو برابر کر دیا ہے۔