حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 150

حقائق الفرقان ۱۵۰ سُوْرَةُ عَبَسَ ساتھ ہوگا۔قرآن شریف صرف یاد کر لینا اور بات ہے اور اس کا ماہر ہونا اور بات ہے۔لوگ اسلام کے تنزل کے طرح طرح کے اسباب بیان کرتے ہیں۔قرآن شریف کے ماہرین کے لئے ان آیات میں کیا کیا وعدے دیئے گئے ہیں۔وہ غور فرما دیں۔اور پھر اس کے ساتھ میں آیت کریمہ قَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔(الفرقان : ۳۱) کو بھی پڑھ لیں۔بررة - بار کی جمع بمعنے نیک کردار کے ہیں۔قرآن شریف کے مضامین ، معانی و مطالب کے موضحیں کے لئے سَفَرَة اور بررہ کے لفظ میں بڑی خوش خبری ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان سفیر نیک کردار ہوتے ہیں۔سلطنتوں کے درمیان سفیر کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ نیک کرداری کے ساتھ دوسلطنتوں کے مقاصد و اغراض کو کیونکر بیان کرتے ہیں۔ہر واعظ اپنی اپنی جگہ وعظ کے وقت سوچ لے کہ وہ اس وقت کس کام کے کرنے کے لئے کھڑا ہے۔شیعہ غور کریں اگر چہ ان تفسیری نوٹوں میں مسلمانوں کے فرقوں میں سے کسی ایک یا دوسرے کو خطاب نہیں کیا گیا۔تاہم کہیں کہیں بعض عام غلط فہمیوں کی تردید ضرور کی گئی ہے۔ہمارے شیعہ بھائی جو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کے مطاعن بیان کرنے میں بیبا کی سے کام لیتے اور ان پر نادانی سے الزام لگاتے ہیں۔ان آیات پر غور کریں کہ خود خدا تعالیٰ نے ان کی تطہیر اور تکریم کی شہادت دیدی ہے کیونکہ فرما یافِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ - یعنی ان کا تبوں کے ہاتھ سے ہیں۔جو مکرم و مبرور ہیں۔اللہ اکبر۔صحابہ کی شان بلند کو یہ آیت کیسی صفائی سے ظاہر کرتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۸،۳۰۷) -- قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَة - ترجمہ۔انسان مارا جائے۔ملعون کس بلا کا ناشکرا ہے۔تفسیر۔قتل صرف بددعایا کو نا نہیں ہے بلکہ ہر متکبر کفران نعمت کر نیوالے کے لئے پیشگوئی ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تکبر میری چادر ہے جو مجھ سے میری چادر چھینے لے اے میرے رب ! بے شک میری قوم نے اس قرآن شریف کو چھوڑ دیا تھا۔