حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 6
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمَعَارِجِ ۳۷ تا ۳۹۔فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ عَنِ الْيَمِينِ وَ عَن الشِّمَالِ عِزِينَ - أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِى مِنْهُمْ أَنْ يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ ترجمہ۔کیا ہو گیا ہے کافروں کو کہ تیری طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے ٹکڑیاں کی ٹکڑیاں۔کیا اس میں سے ہر ایک شخص اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ نعمت کے پانچوں میں داخل کیا جائے۔تفسیر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھانے کے واسطے عرب کے بڑے بڑے لوگ آتے تھے۔ان کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے۔وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قومیت اور وجاہت کی طرف توجہ دلاتے تھے۔وہ لوگ اس قدر متکبر تھے کہ عرفات میں عوام عرب کے ساتھ کھڑے بھی نہ ہوتے تھے۔بعض لوگ آزادی کو پیش کر کے اپنے آپ کو مذہب سے بے تعلق رکھنا چاہتے اور طرح طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بزعم خود سمجھاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھایا ہے کہ ہم تو مشرق و مغرب کے مالک ہیں۔جس طرح یہ لوگ مکہ میں بڑے بنے ہوئے ہیں۔اُن جیسے ہم اور بڑے بڑے آدمی بنانے پر قادر ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کہاں اہلِ عرب کے گمان میں تھا کہ ابوبکر بڑا آدمی بن جائے گا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنے بڑے بادشاہ ہو جائیں گے۔(ضمیمه اخبار البدرقادیان جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ صفحه ۲۸۷)