حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 145

حقائق الفرقان ۱۴۵ سُوْرَةُ التَّزِعَتِ علیہ وسلم نے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُہ۔جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔پھر ان سب باتوں کے علاوہ خود اسی سورت میں اس کا جواب موجود ہے کہ قبر کا زمانہ ایسا معلوم ہوگا گویا پہر بھر ٹھہرے ہیں تو پھر توقف جزا یا حوالات کا اعتراض نہایت ہی لغو ہو جاتا ہے۔یہ اعتراض تو آریوں پر ہوتا ہے کہ کیوں اعمال کی جزا کو دوسرے جنم تک ملتوی کیا جاتا ہے اور پھر ایسے دوسرے جنم میں جو بھوگ جونی کہلاتا ہے۔پہلے جنم کے اعمال وافعال کا کچھ بھی شعور نہیں ہوتا اور نہ پہلا شخص قائم رہتا ہے۔جو اُن کے مجوزہ اور مقررہ انصاف کے صریح خلاف ہے۔پھر مہا پر لے کے وقت جو خلق فنا ہوتی ہے۔ان کی سزا و جزا کو انگلی دنیا تک جو آ ٹھ ارب کا زمانہ ہے ٹکائے رکھنا۔کس اصول دیانت و انصاف پر مبنی ہے؟ کیا مخلوق کا کام ہے کہ خالق کو مشورہ دے؟ غرض یہ سوال یا اعتراض بالکل فضول اور لغو ہے۔۴۴ - فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذُكرتها - (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۶) ترجمہ۔تو تجھ کو اس کے ذکر سے کیا تعلق۔تفسیر۔اے پیغمبر! تم اس کا وقت بتانے کے کہاں بکھیڑے میں پڑے ہو! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہمیشہ لوگ قیامت کے تعین وقت کا سوال کیا کرتے تھے۔جب یہ آیت اور الی ربك مُنْتَهَا (النزعت: ۴۵) نازل ہوئی تو لوگ سوال سے باز آ گئے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۶)