حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 144

حقائق الفرقان ۱۴۴ سُوْرَةُ التَّزِعَتِ کہلاتا ہے۔جو بہت زیادہ پھیل جائے اور بڑی سرکشی کرے۔وہ طاغوت ہے۔۳۹۔وَاثَرَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا - ترجمہ۔اور دنیا ہی کا جینا بہتر سمجھا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۶) تفسیر۔اثر۔ایک چیز کو دوسری چیز سے زیادہ پسند کیا۔(ضمیمه اخبار بدر نمبر ۲۶ جلد ۱۱ا قادیان مورخه ۱/۱۴اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۶) ۴۱ - وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى - جمعہ اور لیکن جو ڈرا اپنے رب کے حضور کھڑے رہنے اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکتا رہا۔تفسیر۔انھڑی۔گری ہوئی کمی خواہش۔(ضمیمه اخبار بد نمبر ۲۶ جلد ۱۱ قادیان مورخه ۱۱۴ اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۶) ۴۳ - يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا - ترجمہ۔تجھ سے قیامت کی نسبت پوچھتے ہیں کہ اس کے ظہور کا وقت کب ہوگا۔تفسیر۔موسی۔انتہائے سیر اور اس کا ٹھہراؤ کشتی جب چل کر ٹھہر جاتی ہے تو مُرسی السَّفِينَةُ کہتے ہیں۔ایک سوال اور اس کا جواب۔آریہ لوگ نادانی سے اعتراض کرتے ہیں ( کیونکہ انہیں حقائق معاد سے بالکل نا آشنائی ہے ) کہ انسان کے جزا دینے میں اس قدر دیر لگانا انصاف کے خلاف ہے۔چاہیے کہ فورا سزا ہو۔قیامت تک ہر شخص کو حوالات میں رکھنا اور پھر کسی کو کم کسی کو زیادہ دیر رکھنا سخت بے انصافی ہے۔اس اعتراض کے جواب میں اول تو یہ کہنا کافی ہے کہ اسلام کی حقیقت سے اگر وہ واقف ہوتے تو ایسا لغو اعتراض نہ کرتے۔یوم کا لفظ ہر آن پر بھی بولا جاتا ہے۔اور اعمال کی جزا وسزا اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہے۔جب کوئی عمل حیطه فعل میں آتا ہے۔علاوہ بریں یہ بھی فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ