حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 140
حقائق الفرقان ۱۴۰ سُوْرَةُ التَّزِعَتِ ۸۷ - يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ - ترجمہ۔جس دن لرزنے والی لرزے گی۔ایک زلزلہ کے پیچھے دوسرازلزلہ ہے۔تفسیر۔زلزلے ہمیشہ آتے رہیں گے۔ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے که اشراط عظام قبل قیام ساعت جب شروع ہو جاویں گے تو ایسے لگا تا رظہور ہوں گے۔جیسے تسبیح کا تا گہ ٹوٹ جانے سے منکے تسبیح کے متتابع یکے بعد دیگرے گرنے لگتے ہیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اَوَّلُ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَ وَ الدَّابَةُ أَيَّتُهُمَا خَرَجَتْ فَالْأُخْرَى عَلَى اثر تھا۔سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی وہ یا توطلوع شمس من مغر بہا ہوگی یا خروج دابہ کی ہوگی۔جونسی ان میں سے پہلے ظاہر ہو گی دوسری بھی اس کے نقش قدم کے ساتھ ہی شروع ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ تیرہ سو برس گزرنے کے بعد ظہور ان آیات کا جو تعبیر طلب ہو گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دُور کی چیز اپنی کیفیت و کمیت میں بسبب بعد مکانی کے اپنی اصلی شکل سے کچھ مغائر معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح سے پیغمبروں کے مکاشفات کا حال ہے کہ پیشگوئیوں میں جو مکاشفات کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہیں۔بہ سبب بعد مکانی کے کچھ نہ کچھ تعبیر واقع ہو جاتی ہے۔احکام و اوامر و نواہی کا ایسا حال نہیں ہوتا۔اب تو کئی قسم کے زلزلے آئے اور ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱/۱۱اپریل ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۵) متتابع آئے۔ا يَقُولُونَ وَ اِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ - ترجمہ۔وہ کہیں گے کیا ہم الٹے پاؤں واپس کئے جائیں گے پہلی حالت پر۔الْحَافِرَة - نشان قدم۔حُفر تم کو کہتے ہیں۔حُفرة گڑھے کے معنے ہیں۔مَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ۔کیا ہم اپنے نقشِ قدم پر لوٹ کر پھر اگلی حالت جیسے زندہ انسان ہو جائیں گے؟ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱ارا پریل ۱۹۱۲، صفحه ۳۰۵) ۱۵ - فَإِذَاهُمْ بِالسَّاهِرَةِ - ترجمہ۔پھر ایک دم سے وہ سب میدان میں آ موجود ہوں گے۔