حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 139

حقائق الفرقان ۱۳۹ سُوْرَةُ التَّزِعَتِ مطلع سورۃ کی یہ پانچ آیتیں ہیں جو اس بات کا اظہار کر رہی ہیں کہ دینی امور ہوں یا دنیوی۔ان کے انتہائے کمال پر پہنچنے کے لئے یہ پانچ مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔اول۔کام سے ہٹانے والی چیزوں سے الگ ہو کر انسان اپنے کام میں محو ہو جائے۔دوم۔پورے نشاط اور خوشی سے اپنے کام کو کرے۔سوم۔اپنے کام میں اس طرح مشق کرے جس طرح پیراک پانی میں تیرتا ہے۔اور اس کو کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔چہارم۔اپنی جماعت اور ہم عمر لوگوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔پنجم۔اپنے کام میں ایسا کمال حاصل کرے کہ خود اس میں موجد ہو جائے۔مثلاً طالبعلم ہو یا تاجر۔پہلے پہل اس کو ہمہ گوش و ہمہ تن ہو کر اپنے کام میں مستغرق ہونا پڑتا ہے۔تب کچھ حروف شناسی یا سنبھالا پکڑتا ہے۔پھر بعد اس کے نشاط خاطر سے کام چل پڑتا ہے۔پھر بعد چندے طالبعلم یا پیشہ ور اپنے اپنے معانی و مطالب کے پیراک ہو جاتے ہیں۔پھر اپنے ہم عصروں اور پیشہ وروں سے با یکدیگر مسابقت و پیش قدمی کرنے لگتے ہیں۔آخری درجہ کمال یہ ہوتا ہے کہ موجد فن ومد بروافسر اعلیٰ بن جاتے ہیں۔ملائکتہ اللہ کی خدمات بھی ان آیتوں سے مراد بھی گئی ہیں۔مگر آیت اپنے عموم پر دلالت کر کے ملائکتہ اللہ کے ہم رنگ و ہم سبق ہونے کی انسانوں کو بھی تعلیم دے رہی ہیں۔اور ساتھ ہی جزاوسزا کے مسئلہ کو جو مقصود بالذات ہے ثابت کر رہی ہیں۔نتائج اعمال حق ہیں۔کوششوں کے پھل ضرور ملیں گے۔الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ - دنیا ایک زراعت گاہ ہے۔اس زراعت کے کاٹنے کا جو وقت ہے اس کا نام یوم آخرت و یوم القیامت ہے از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو ز جو اللہ تعالیٰ نے قسم کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔گویا کہ ان واقعات کو جزا وسزا کے لئے گواہ ٹھہرایا ہے۔اور اس آنے والے دن کے اشراط عظام ، مبادی و مقدمات یوں بیان فرمائے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخہ ۱۱ اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۵٬۳۰۴) ا مکافات عمل سے غافل مت ہو کیونکہ گندم سے گندم اور جو سے جو ہی اگتا ہے۔