حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 132
حقائق الفرقان ۱۳۲ سُورَةُ النَّبَا اٹھاویں۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے اس کا مطلب ایسا لطیف ہے کہ جس سے یہ تمہارا سوال بھی حل ہو جاوے اور قرآن کریم کی عظمت بھی ظاہر ہو۔غور کرو اس آیت پر۔وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللهِ الَّذِى اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ (النمل:٨٩) اور تو پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتا ہے کہ وہ مضبوط جمے ہوئے اور وہ بادل کی طرح اُڑ رہے ہیں۔یہ اللہ کی کاریگری قابل دید ہے جس نے ہر شے کو خوب مضبوط بنایا ہے۔غور کرو۔یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ پہاڑ تمہارے گمان میں ایک جگہ جمے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور وہ بادلوں کی طرح چلے جاتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ زمین کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور یہ کیسا عجیب نکتہ ہے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۷۳ تا ۲۷۵) -- وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا - ترجمہ۔اور تمہاری نیند کو آرام کا موجب بنایا۔تفسیر۔نَوْم بھی قیامت کے ثبوت کے لئے ایک عجیب واقعہ روز مرہ کا ہے۔سبات کے کئی معنے ہیں۔سبات۔نیند اور راحت - سبات - قطعا لأعمالِكُمْ - سبات تمدد اور کھولنے کو بھی کہتے ہیں۔سَبَتَتِ الْمَرْأَةُ شَعْرَهَا۔نیند بھی ایک قسم کی موت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے پھر اس مردے کو زندہ کرتا ہے۔یہ موت ناقص ہے۔موت کامل کے بعد بھی انسان اسی طرح پھر اٹھایا جائے گا۔یہاں اس کا ایک نمونہ دکھایا گیا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱ار اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۳) -11- وَجَعَلْنَا اليلَ لِبَاسًا - ترجمہ۔اور بنایا رات کو ایک پردہ۔راتوں کے سبات اور آرام پانے کی وجہ سے تھکے ہوئے چہروں پر دوسری صبح جوتر و تازگی اور ر وفق آجاتی ہے۔یہ بھی ایک قسم کا لباس ہے۔حقیقت میں رات بندوں کے لئے بڑی پردہ پوش چیز ہے۔کوئی شاعر کہتا ہے