حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 133
حقائق الفرقان ۱۳۳ سُورَةُ النَّبَا لے اللَّيْلُ لِلْعَاشِقِيْنَ سِتْراً ياليتَ أَوْقَاتُهَا تَدُومُ ۱۲ - وَجَعَلْنَا النَّهَارِ مَعَاشَا - ترجمہ۔اور دن کو روزی کمانے کا وقت۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱ار ا پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۳) تفسیر۔انسان کے واسطے دن معاش کا ذریعہ اور رات آرام کا وقت بنایا ہے اور فرما یاؤ جعلنا جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا سرور عالم فخرِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بَاركَ اللهُ في كُورِهَا فرمایا۔کس قسم کی معاش؟ دنیوی معاش اُخروی معاش کے لئے یہ جگہ ہے الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ- جیسا بیچ بوو گے۔انجام کا رویسا پھل پاؤ گے۔کون اس بات کو نہیں جانتا کہ جو کے بونے والے کو آخر جو کاٹنے پڑیں گے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ ء صفحه ۴) ۱۵ - وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرتِ مَاءً تَجَاجًا - ترجمہ۔اور ٹپکنے والے بادلوں سے زور کا پانی برسایا۔مُعْصِرتِ ان بادلوں کو کہتے ہیں۔جن میں سپینچ کی طرح پانی بھرا ہوا ہو۔جو ٹپکنے کے قریب ہو۔(مُعْصِرة لغت میں اس لڑکی کو بھی کہتے ہیں جو قریب البلوغ ہو۔) تیج۔لازمی اور متعدی دونوں معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔لازمی جیسے نَجَّ الْمَاءُ۔پانی کثرت سے بہا۔متعدی جیسے حدیث شریف میں اَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللهِ الْعَج والفج - عج کے معنے تلبیہ پکارنا۔لبیک کہنا اور حج کے معنی قربانیوں کا خون بہانا۔غرضکہ مُعْصِرت سے مَآءَ جا جا کا ہونا عبارت ہے۔بارش موسلا دھار سے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱ارا پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۴،۳۰۳) ١٨ اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا - ترجمہ۔بے شک فیصلہ کا دن مقرر ہو چکا ہے۔تفسیر۔يَوْمَ الفصل۔فرمایا۔یوم الفصل مقرر ہے وہ یقینا آنے والا ہے۔مکہ معظمہ میں یہ نبوت لے رات عاشقوں کے لئے پردہ ہے۔اے کاش اس کے اوقات ہمیشگی اختیار کریں۔