حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 128

حقائق الفرقان ۱۲۸ سُورَةُ النَّبَا کہ کیا کوئی انسان اپنی تدبیر اور فکر سے ایسی تحدی کے ساتھ اتنا بڑا دعوئی خلقت کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔کیا ایسی شاندار بات کوئی شخص صرف انکل بازی سے کہہ سکتا ہے؟ قیامت کے منکرین کے واسطے یہ دلائل نہایت ہی فائدہ بخش ہو سکتے ہیں۔بشرط آں کہ کوئی (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۲) غور کرے۔ے۔اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهْدًا - ترجمہ۔کیا ہم نے زمین کو گہوارہ نہیں بنایا۔تفسیر۔جَعَل۔پہلے پہل پیدا کیا۔مہاد بمعنی ممهود اسم مصدر۔اسم مفعول کے معنے میں ہے۔دوسری جگہ فرما یا جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا (البقرة:۲۳) معلوم ہوا کہ مھا دہونا بھی زمین کی ایک صفت ہے اور فراش ہونا بھی ایک صفت ہے۔چونکہ قیامت کے وقوع میں استبعاد عقلی ظاہر کیا گیا تھا۔اس لئے اپنی قدرت کاملہ سطوت اور جبروت کے چند ایک نظارہ قدرت کو پیش کیا۔مثلاً جبال ، خلق از واج، نوم وسبات، سبع شهداد ، سراج وتاج وغیرہ کئی ایک عظیم الشان مشہو دقدرتوں کو پیش کیا تا کہ عجز کا وہم دور ہو۔مهد۔گہوارے کو کہتے ہیں۔زمین بھی ایک گہوارے کی طرح ہے۔سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔انسان کا یہ گہوارہ ہے۔مٹی سے وہ پیدا ہوتا ہے۔پھر مٹی میں مل جاتا ہے۔پھر مٹی سے اٹھایا جاوے گا۔اس زمین پر جزا و سزا کے اعمال کا ایک نقشہ اپنے سامنے دیکھتا ہے۔- وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا - ترجمہ۔اور پہاڑوں کو میخیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۲) تفسیر - آفتادًا - وئد کی جمع - وتد بمعنی کھونٹی جس سے اس جگہ مضبوطی جبال کا اظہار بھی مقصود۔ہے۔پہاڑ ثقل ارض کو ایک اندازہ پر رکھنے والے ہیں۔آجکل کے سائنسدانوں نے بھی اس امر کو تسلیم لے وہ رب جس نے ( چکر کھانے والی ) زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا