حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 119
حقائق الفرقان ۱۱۹ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت قرآن شریف میں بھی اِذَا الكَواكِبُ انْتَثَرَتْ (الانفطار: ۳) یعنی بڑے ستارے جھڑ پڑیں گے کہہ کر علماء ربانی کی وفات اور قبض علم کی طرف اشارہ کیا ہے۔وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ - جب آسمان شگافتہ ہو جاوے گا۔اور دوسری جگہ قرآن شریف میں اِذا السماء انشقت ( الانشقاق: ۲) فرمایا ہے۔آسمان کا شگافتہ ہونا یا پھٹ پڑنا سماوی بلیات و کثرتِ حوادث سے مراد ہے۔جیسا کہ شدتِ مصائب کے وقت کہتے ہیں کہ آسمان ٹوٹ پڑا۔تباہ کن بارشوں کے وقت بھی یوں ہی کہتے ہیں کہ آسمان ٹوٹ پڑا یا پھٹ پڑا۔وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَت۔جس وقت پہاڑ اڑا دیئے جاویں۔یعنی بڑی بڑی قو میں نیست و نابود کر دی جاویں گی۔تاریخوں میں تو بہت کچھ لکھا ہے مگر آنکھوں کے سامنے ہی کا معاملہ ہے کہ وہ شوکت اور قوت سکھوں کی جو پنجاب میں تھی۔کہاں گئی ؟ دوسری جگہ قرآن شریف میں یہی لفظ اس ترتیب سے آیا ہے۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسُفًا - (طه: ١٠٦) لے وَإِذَا الرُّسُلُ أَقتَت۔جب رسول وقت مقررہ پر جمع کئے جائیں گے۔قیامت کے روز وقت مقررہ پر اپنی اپنی امتوں کا حال بتانے کے لئے رسول تو اکٹھے کئے ہی جائیں گے مگر دنیا میں بھی تحقیق المذاہب کے بڑے بڑے جلسے، جن میں ہر مذہب کے لیڈروں کو اپنے اپنے بیان کے لئے وقت دیا جاتا ہے۔یہ بھی تو قیت رسل کا ایک نظارہ ہے۔لاي يَوْمٍ أَجِلَتْ لِيَوْمِ الْفَصْلِ۔یہ وعدے کب پورے ہوں گے؟ فیصلہ کے دن پورے ہوں گے۔آخرت میں یہ وعدے پورے ہوں گے۔ہمارا ایمان ہے۔مگر علامات کبرای اشراط الساعة کے طور پر یہ وعدے دنیا میں اس وقت بھی پورے ہوئے اور ہور ہے ہیں۔بہت سارے مباحث جن کا فیصلہ مولوی ملاؤں کے ہاتھوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔ان کا فیصلہ مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر ہو گیا۔عیسائیوں کا فیصلہ ڈوئی اور آتھم کے ذریعہ سے ہو گیا۔آریوں کا فیصلہ لیکھرام کے ذریعہ سے ا اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کی طرح جو سلطنتیں ہیں اُن کا حال۔تو جواب دے اڑا دے گا میرا رب ان کو بالکل خاک دھول بنا کر۔