حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 118
حقائق الفرقان ۱۱۸ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت ہواؤں کو دیکھو۔عام حالت میں کہ کیسی صاف و صحت بخش اور جان فزا ہوتی ہیں۔مگر دوسرے وقت میں بھی ہوا ئیں تند اور تیز ہو کر دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیتی ہیں اور ایک عجیب امتیاز کے ساتھ بعض کو حوادث سے بچاتی اور بعض کو تباہ کرتی ہیں اور ایسے حوادث اتمام حجت کا باعث ہو جاتے ہیں۔الغرض یہ نظام ظاہری کی تقسیم خمسہ ہزاروں دلائل کا لشکر ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو وعدے دیئے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے۔جس طرح ہوا صحت بخش اور جان افزاء ہے۔اسی طرح امر رسالت بھی جان فزاء تو ہے مگر اس کی قدر نہ کی گئی تو بالآخر اس میں ہوا کی طرح اشتداد پیدا ہوگا۔یہ رسالت دنیا میں منتشر ہو جاوے گی اور اس کے ذریعے کا ذبوں اور صادقوں میں امتیاز ہوگا اور منکروں پر اتمام حجت اور باعث عذاب ہوگا۔یہی ہوا جس نے قوم عاد کو ہلاک کیا تھا لطف حق با تو مواسا با کند چوں که از حد بگذرد رسوا کند إذَا النُّجُومُ طمست۔جب چھوٹے چھوٹے ستارے ماند پڑ جاویں گے یا ان کا نورمٹ جاوے گا۔نجم عربی میں چھوٹے ستاروں اور چھوٹے چھوٹے بوٹوں کو کہتے ہیں جیسے فرمایا۔وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُلان (الرحمن: ۷) اور بڑے ستاروں کو کو کب کہتے ہیں۔چونکہ قرآن شریف کے لئے ظہر اور بطن ہے اس لئے علامات قیامت سے یہ بھی ایک علامت ہے کہ ایسے علماء جو نجوم کی طرح ہیں۔ان کی نور فراست جاتی رہے گی۔دوسری جگہ فرمایا: وَ إِذَا النُّجُومُ الكَدَرَتْ - (التكوير : ۳) علماء کا نورانی چشمہ مکدر ہو جائے گا۔بیچارے کیا کریں۔تفسیروں پر تفسیریں لکھی گئی ہیں اور حاشیوں پر حاشیے چڑھائے گئے۔یہ تو حال علماء کا ہوا۔جو راہ یابی کے لئے بطور نجم کے نشان دہ تھے۔باقی رہے حقانی علماء ان کے لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ يُقْبَضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاء یعنی حقانی علماء کے مرنے سے علم دنیا سے جاتا رہے گا۔ل خدا تعالیٰ کارحم تجھے آسائشیں عطا کرتا ہے لیکن جب انسان ان آسائشوں میں زیادہ مبتلا ہو جاتا ہے تو رسوا ہو جاتا ہے۔ہے اور بیلیں اور درخت اور تارے سجدہ کر رہے ہیں۔سے اور ستارے مدھم پڑ جائیں۔