حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 117

حقائق الفرقان 112 سُوْرَةُ الْمُرْسَلت فَالْعُصِفَتِ والنشرات۔وہ تیز ہوائیں جو بادلوں کو چاروں طرف پھیلاتی ہیں اور جن سے دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا ہوتے ہیں۔فرقت۔وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہیں جو اس دنیا میں تفریق و انفصال کا کام کر رہی ہیں۔مُلقیت۔وہ ہوائیں جو ملہمین اور واعظین کے نصائح کانوں تک اور دلوں تک پہنچاتی ہیں قدرت کا یہ کرشمہ اور نظارہ بتاتا ہے کہ انسان کے خلق کی کوئی علت غائی ہے۔اس نظامِ ظاہری کو پیش کر کے بتایا ہے کہ جس طرح پر نظام ظاہری کے لئے مؤثرات خارجی ہیں۔اسی طرح نظام روحانی کے لئے بھی مؤثرات باطنی ہیں۔ہوا کے مختلف ایتھروں کی قسم میں ہوا کے مختلف شعبوں کی طرف توجہ دلا کر اس نظارہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آئندہ آنیوالی کامیابیوں اور واقعات کے دکھلانے کے علاوہ حشر اجساد پر اس کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: إنَّمَا تُوعَدُونَ لَواقع یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ جو وعدے تم کو دیئے گئے ہیں خواہ وہ اس دنیا کے متعلق ہوں یا آخرت کے متعلق وہ پورے ہو کر رہیں گے۔یہ بات یادر کھنے کے قابل ہے کہ ہوائیں اور ذرات عالم خود ہی مد بر و مختار، علیم و قادر نہیں ہیں جو کہ ضروریات عالم کو سمجھ کر موقع اور محل شناسی کے بعد انتظام کریں۔بلکہ ان تمام واقعات ظاہری کے تحت میں مدبرات اور مقسمات ہیں جن کو بلفظ دیگر ملائکہ کہتے ہیں۔اور انہیں کو ظاہری افعال کے لحاظ سے مُرسَلت عصفت، نشرت فرقت اور مُلقِیت کہا گیا ہے۔اور یہ الفاظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں۔جو ہزار ہا بیرونی و اندرونی ، آفاقی و انفسی ، روحانی اور جسمانی امور پر دلالت کر سکتے ہیں اور اس طرح پر وجو د قیامت پر ہزاروں دلیلیں پیدا ہو جاتی ہیں۔مثال کے طور پر مُرسَلت عُرفا میں بادلوں کا آنا ، برسنا ، دن رات کا آنا جانا ، سونا ، جا گنا ، گاڑیوں وغیرہ کا چلنا پھرنا سب داخل ہیں۔اسی طرح پر باقی چار کو بھی قیاس کر لو۔جس قدر واقعات ظاہری یا باطنی ظاہر ہو رہے ہیں۔وہ انہیں پنج اقسام میں محصور ہیں۔اور یہ سب کے سب بالاجماع دلالت کرتے ہیں کہ انَّمَا تُوعَدُونَ