حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 112

حقائق الفرقان ۱۱۲ سُوْرَةُ الدَّهْرِ کی مہر اپنے اوپر رکھ سکتی ہے۔اب ان معانی کو رڈیا کی کتابوں میں دکھاتے ہیں۔القِيَابُ الْخُضْرُ قُوَّةٌ ودِينٌ وَزِيَادَةُ عِبَادَةٍ لِلْأَحْيَاء وَلِلْاَمْوَاتِ حُسْنُ حَالٍ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى منتخب الكلام: صفحہ ۱۱۰) لباس سبز سے مراد ہے زندوں کے لئے قوت اور دین اور عبادت میں ترقی اور مردوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوشحالی ہے۔الديباج وَالْحَرِيرُ وَجَمِيعُ ثِيَابِ الْأَبْرَسِيمِ هِيَ صَالِحَةٌ لِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ فَإِنَّهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ يَعْمَلُونَ أَعْمَالًا يَسْتَوْجِبُونَ بِهَا الْجَنَّةَ وَيُصِييُونَ مَعَ ذَلِكَ رِيَاسَةً - والقيَابُ الْمَنْسُوْجَةُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ صَلَاحٌ فِي الدِّيْنِ وَالدُّنْيَا وَبُلُوغُ المُنى - وَ مَنْ رَالَ إِنَّهُ يَمْلِكُ حُلَلًا مِنْ حَرِيْرٍ أَوِ اسْتَبْرَقٍ اَوْ يَلْبِسُهَا عَلَى أَنَّهُ تَاجُ أَوْ اكْلِيْلٌ مِنْ يَاقُوتٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ وَرِحْ مُتَدَيَّنْ غَازِ وَيَنَالُ مَعَ ذَلِكَ رِيَاسَةً۔(منتخب صفحه ۱۱۱) دیباج اور ریشم اور ہر قسم کے ریشمی کپڑے فقہاء کے سوا اوروں کے لئے بہت اچھے ہیں۔ان کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگ ایسے عمل کریں گے کہ جن سے جنت کے حقدار بن جائیں گے اور اس کے علاوہ انہیں ریاست بھی ملے گی۔اورسونے اور چاندی کے ساتھ بنے ہوئے کپڑوں سے مراد ہے بہتری دین میں اور دنیا میں اور مقصد پر پہنچ جانا۔جو شخص دیکھے کہ اس کی ملک میں ریشم اور استبرق کے لباس ہیں یا انہیں پہن رکھا ہے یا یاقوت کا تاج سر پر دیکھے۔ایسا شخص پر ہیز گار، دیانت دار، غازی ہوتا ہے اور علاوہ برآں اسے سلطنت بھی نصیب ہوتی ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۶۳ تا ۱۶۵) سوال - حُلُوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ( الدهر : ٢٢) يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ ( الكهف : ٣٢) بھلا کوئی شائستگی ہے کہ عورتوں کا گہنا آدمی پہنے لگ جاویں۔کیا بی اے مولوی ہیجڑوں کی طرح کنگن پہن کر پھریں گے۔پھر ہنسی کی ہے۔