حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 103
حقائق الفرقان ۱۰۳ سُوْرَةُ الدَّهْرِ پھر بتلایا کہ جو معاہدہ کسی سے کریں اس کی رعایت کرتے ہیں۔مسلمان سب سے بڑا معاہدہ خدا سے کرتا ہے کہ میں نیک نمونہ ہوں گا۔میں فرمانبردار ہوں گا۔میں اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے کسی کو دُ کھ نہ دوں گا۔اور ایسا ہی ہماری جماعت امام کے ہاتھ پر معاہدہ کرتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔رنج میں راحت میں عسر یسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا۔بغاوت اور شرارت کی راہوں سے بچنے کا اقرار کرتا ہے۔غرض ایک عظیم الشان معاہدہ ہوتا ہے۔پھر دیکھا جاوے کہ نفسانی اغراض اور دنیوی مقاصد کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا دین کو مقدم کرتا ہے۔عامہ مخلوقات کے ساتھ نیکی اور مسلمانوں کے ساتھ خصوصا نیکی کرتا ہے یا نہیں۔ہر امر میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔مقدمہ ہو تو جھوٹے گواہوں، جعلی دستاویزوں سے محتر ز ر ہے۔دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وعظ کہنا بھی مفید امر ہے۔اس سے انسان اپنے آپ کو بھی درست بنا سکتا ہے جب دوسرے کو نصیحت کرتا ہے تو اپنے دل پر چوٹ لگتی ہے۔امر بالمعروف بھی ابرار کی ایک صفت ہے اور پھر قسم قسم کی بدیوں سے رکتا ہے۔المخفق يُفَجَّرُونَهَا تَفْجِيرًا جب خود بھلائی حاصل کرتے ہیں۔ظالم لنفسہ ہوتے ہیں تو دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں يُوفُونَ بِالنَّذْرِ جو معاہدہ جناب الہی سے کیا ہو اس کو وفاداری سے پورا کرے اور نیکی یوں حاصل کرے کہ میرے ہی افعال نتائج پیدا کریں گے۔ایک فلسفی مسلمان کا قول ہے۔گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشوب وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ آسِیرا اور کھانا دینے میں دلیر ہوتے ہیں۔مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو کھلاتے ہیں۔قرآن کریم میں لباس اور مکان دینے کی تاکید نہیں آئی جس قدر کھانا کھلانے کی آئی ہے۔ان لوگوں کو خدا نے کافر کہا ہے جو بھو کے کو کہہ دیتے ہیں کہ میاں تم ل گندم سے گندم ہی اگتی ہے اور جو سے جو تو اپنے عمل کی پاداش سے غافل نہ ہو۔