حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 100
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الدَّهْرِ خدا پرست اور خدا میں ہو کر دنیا پر ظاہر ہوئے۔وہ جو حکومت کے نام سے بھی ناواقف تھے دنیا بھر کے مظفر و منصور اور فاتح کہلائے۔غرض کچھ نہ تھے سب کچھ ہو گئے۔مگر سوال یہی ہے کیونکر؟ اسی قرآن کریم کی بدولت اسی دستور العمل کی رہبری سے۔پس تیرہ سو برس کا ایک مجرب نسخہ موجود ہے جو اس قوم نے استعمال کیا جس میں کوئی خوبی نہ تھی اور خوبیوں کی وارث اور نیکیوں کی ماں بنی۔غرض یہ مجرب نسخہ ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ کے قرب اور سکھ کی تلاش چاہو اسی قدر محامد الہیہ اور صفات باری تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔کیونکہ اسی قدر انسان رذائل سے بچے گا اور پسندیدہ باتوں کی طرف قدم اٹھائے گا۔حاصل کلام ابرار بننے کے لئے مندرجہ بالا اصول کو اپنا دستورالعمل بنانا چاہیے۔میں نے ذکر یہ شروع کیا تھا کہ شاکر گروہ کا دوسرا نام قرآن کریم نے ابرار رکھا ہے اور ان کی جزا یہ بتلائی ہے کہ کا فوری پیالوں سے پیئیں گے چنانچہ فرمایا اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا - پہلے ان کو اس قسم کا شربت پینا چاہیے کہ اگر بدی کی خواہش پیدا ہو تو اس کو دبالینے والا ہو۔کافور کہتے ہی دبا دینے والی چیز کو ہیں۔اور کافور کے طبی خواص میں لکھا ہے کہ وہ سمی امراض کے مواد رد یہ اور فاسدہ کو دبا لیتا ہے اور اسی لئے وبائی امراض طاعون اور ہیضہ اور تپ وغیرہ میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔تو پہلے انسان یعنی سلیم الفطرۃ انسان کو کا فوری شربت مطلوب ہے۔قرآن کریم کے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لنفسه ( الى الآیہ ) پھر وارث کیا ہم نے اپنی کتاب کا ان لوگوں کو جو برگزیدہ ہیں۔پس بعض ان میں سے ظالموں کا گروہ ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں اور جبر واکراہ سے نفس اتارہ کو خدا تعالیٰ کی راہ پر چلاتے ہیں اور نفس سرکش کی مخالفت اختیار کر کے مجاہدات شاقہ میں مشغول ہیں۔دوسرا گروہ میانہ رو آدمیوں کا ہے جو بعض خدمتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس سرکش سے بہ جبر وا کراہ لیتے ہیں اور بعض الہی کاموں کی بجا آوری میں نفس ان کا بخوشی خاطر تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور شوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجالاتا ہے غرض یہ لوگ کچھ تو تکلیف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کی راہ پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی