حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 92 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 92

حقائق الفرقان ۹۲ سُوْرَةُ الدَّهْرِ پڑی ہو تو یہ بات ایسے انسان کی سرشت میں موجود ہے کہ جو کوئی اس پر احسان کرے تو محسن کی محبت طبعا انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔اسی طبعی تقاضائے فطرۃ کی طرف ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے احمد مجتبے صلی اللہ علیہ وسلم نے ایما کر کے ارشاد فرمایا ہے جبلَتِ القُلُوْبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا یعنی انسانی سرشت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنے حسن سے محبت کرتا ہے۔اسی قاعدہ اور تقاضاء فطرۃ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ طرز بھی اختیار کیا ہے کہ سعادت مندوں کو اپنے احسان و انعام یاد دلاتا ہے کہ وہ محبت الہی میں ترقی کر کے سعادت حاصل کریں اندرونی اور بیرونی انعامات پر غور کریں اور سوچیں تا ان کی جناب الہی سے سے محبت ترقی کرے پھر یہ بات بھی انسان کی فطرت میں ہے کہ جب انسان کسی سے محبت بڑھالیتا ہے تو محبوب کی رضامندی کے لئے اپنا وقت، اپنا مال اپنی عزت و آبرو و غرض ہر عزیز سے عزیز چیز کو خرچ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کے مطالعہ کی عادت پڑ جاوے تو اسے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوگی اور روز بروز محبت بڑھے گی۔اور جب محبت بڑھ گئی تو وہ اپنی تمام خواہشوں کو رضاء الہبی کے لئے متوجہ کر سکے گا اور اس رضاء الہی کو ہر چیز پر مقدم سمجھ لے گا۔دیکھو سب سے بڑا اور عظیم الشان احسان جو ہم پر کیا وہ یہ ہے کہ ہم کو پیدا کیا۔اگر کوئی دوست مدد دیتا ہے تو ہمارے پیدا ہونے اور موجود ہونے کے بعد اگر کوئی بھلی راہ بتلا سکتا ہے یا علم پڑھا سکتا ہے۔مال دے سکتا ہے غرض کہ کسی قسم کی مدددیتا ہے تو پہلے ہمارا اور اس چیز کا اور دینے والے کا وجود ہوتا ہے۔تب جا کر وہ مدد دینے والے مدد دینے کے قابل ہوتا ہے۔غرض تمام انعاموں کے حاصل کرنے سے پیشتر جو کسی غیر سے ہوں پہلا اور عظیم الشان احسان خدا تعالیٰ کا یہ ہے کہ اس نے ہم کو اور اس چیز کو جس سے ہمیں راحت پہنچی اور جس نے ہمیں راحت پہنچائی اس کو وجود عطا کیا پھر صحت و تندرستی عطا کی اگر دن بھی بیماری ہو جاوے تو تمام راحت رساں چیزیں بھی راحت رساں نہیں رہتیں۔دانت درد کرے تو اس کا نکالنا پسند ہو جاتا ہے آنکھ دُکھ دینے کا باعث بن جاوے تو گا ہے اس کا نکالنا ہی پڑتا ہے۔