حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 91
حقائق الفرقان ۹۱ سُوْرَةُ الدَّهْرِ السَّبِيلَ۔پر کسی نے قدر کی اور کسی نے نہ کی۔المَا شَاكِرًا وَ إِمَا كَفُورًا۔کوئی مسلمان کہتا ہے کہ جھوٹ جائز ہے۔کون مسلمان کہتا ہے تکبر اور فضولی اور قسم قسم کی بدکاریاں جائز ہیں۔برائی سب جانتے ہیں مگر افسوس کہ قدر نہیں کرتے۔دوسروں کو نصیحتیں کرتے ہیں۔مگر خود عمل نہیں کرتے۔ایک عورت کا میاں شراب پیتا تھا۔اس کو میں نے کہا کہ وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔تم اس سے شراب چھڑا دو۔اس نے کہا کہ میں نے ایک روز اس کو کہا تھا تو اس نے مجھے جواب دیا تھا کہ یہ تجھے نورالدین نے کہا ہوگا۔جب میں اس کی عمر کا ہو جاؤں گا تو چھوڑ دوں گا۔پھر اس کو میری عمر تک پہنچنا نصیب نہ ہوا۔پہلے ہی مر گیا! تم برے اعمال چھوڑ دو۔لین دین میں لوگ بڑے نکمے ہو گئے ہیں۔تو بہ کرو ، استغفار کرو۔اللہ تعالیٰ بڑے سخت لفظ استعمال فرماتا ہے کہ کوئی تو ہماری بتائی ہوئی ہدایت کا شکر گزار ہوتا ہے اور کوئی نہیں ہوتا۔اِمَا شَاكِرَا وَ إِمَّا كَفُورًا إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْللًا وَسَعِيرًا۔ہم نے تو بے ایمانوں کے لئے بڑے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ہم ان کو زنجیروں میں جکڑ دیں گے اِن الابرار ا چھے لوگوں کو خدائے تعالیٰ ایک شربت پلانا چاہتا ہے اور وہ ایسا شربت ہے کہ ان کو اپنی بدیوں کو بہانا پڑتا ہے۔ابرار انسان تب بنتا ہے جب وہ اپنے اندر کی بدیوں کو دباتا ہے نفس کے اوپر تم حکومت کرو۔بہت سے لوگ ہیں۔جو اپنے نفس پر حکومت کرنے سے بے خبر ہیں۔عَيْنا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ الله - اللہ کے بندے ایسے شربت پیتے ہیں وہ ان کو بھاتے ہیں دوسروں کو بھی پلانا چاہتے ہیں۔میں نے تم کو بہت سا پلایا ہے۔تم عمل کرو اور خدائے تعالیٰ سے ڈرو۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم ۵/ دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۹۳-۹۴) یہ ایک وہ سورہ شریف ہے جو جمعہ کے دن فجر کی نماز کی دوسری رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں اول اپنے ان احسانات کا تذکرہ فرماتا ہے جو مولیٰ کریم نے انسان پر کئے ہیں اس تذکرہ کی وجہ یہ ہے کہ اگر آدمی کی فطرۃ اچھی ہو اور وہ سعادت مند ہو ، فہیم ہو ، عقل کی مار اس پر نہ