حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 78
حقائق الفرقان ZA سُوْرَةُ الزُّمَرِ اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کیلئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے مگر نہ وہ مردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں۔جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بدحواسی اس کیلئے موت کے برابر ہوتی ہے۔اور زمین و آسمان اس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں۔انہی کے بارے میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا اس کیلئے جہنم ہے وہ اس جہنم میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا (طہ: ۷۷) اور خود انسان جب اپنے نفس میں غور کرے کہ کیونکر اس کی روح پر بیداری اور خواب میں تغیرات آتے رہتے ہیں تو بالضرور اس کو ماننا پڑتا ہے کہ جسم کی طرح روح بھی تغیر پذیر ہے۔اور موت صرف تغیر اور سلب صفات کا نام ہے۔ورنہ جسم کے تغیر کے بعد بھی جسم کی مٹی تو بدستور رہتی ہے لیکن اس تغیر کی وجہ سے جسم پر موت کا لفظ اطلاق کیا جاتا ہے۔تشخیذ الاذہان جلدے نمبر ۶۔ماہ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۲۷۴-۲۷۵) يتوفى۔قبض کرتا ہے جان کو۔روح کے معنے عربی میں کلام کے ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ /نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۷) ۴۵- قُلْ لِلهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ إِلَيْهِ ترجمہ۔(خود ہی سمجھا دے اللہ ہی کے اختیار میں ہے ساری سفارش۔کیونکہ اسی کی بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین میں۔تو اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔تفسیر۔لِلَّهِ الشَّفَاعَةُ - شفاعت پانچ قسم ہے۔ا۔شفاعت بالمحب۔مثلاً کسی پیارے نے بات کہہ دی وہ مانی جاتی ہے۔۲۔شفاعت بالو جاہت۔اللہ کے ہاں بھی بہت سے وجیہہ ہیں۔مگر ان کی وجاہت کا دباؤ نہیں ہوتا۔۳۔شفاعت بالعلم خدا کے ہاں بے علمی نہیں۔۴۔شفاعت بلحاظ اکرام و اعزاز مثلاً حاکم جانتا ہے کہ مجرم کو چھوڑنا ہے۔مگر اس چھوڑنے کے ساتھ کسی کا اکرام رکھ لیتا ہے۔۵- شفاعت با عمق کہ یونہی بات کہہ دی۔سب قسم کی شفاعتیں اللہ کے اختیار میں ہیں۔جس کی شفاعت چاہے ان سے لے جسے چاہے اعزاز وعلم و وجاہت و محبوبیت دیدے۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۷۹)