حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 77

حقائق الفرقان سُورَةُ الزُّمَرِ ابھی مرے نہیں ) ایک مقرر وقت تک۔کچھ شک نہیں کہ بڑی بڑی نشانیئیں ہیں اس میں ان کے لئے جو غور کرتے ہیں۔تفسیر۔قبض روح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ ( الزمر :۴۳)۔روح کلام الہی کو کہتے ہیں مگر لوگوں نے غلطی سے نفس کا نام روح رکھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ جانوں کو قبض کرتا ہے کب؟ جب کہ مرجاتی ہیں اور جب سو جاتی ہیں۔اس طرح تمہاری جانیں قبضہ قدرت الہیہ میں ہیں۔بدر جلد ۱۰ نمبر ۴۸ و ۴۹ مورخه ۱۹ / اکتوبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۳) خدا جانوں کو جب ان کی موت کا وقت آتا ہے۔اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔یعنی وہ جانیں بے خود ہو کر الہی تصرف اور قبضہ میں اپنی موت کے وقت آ جاتی ہیں۔اور زندگی کی خود اختیاری اور خودشناسی ان سے جاتی رہتی ہے۔اور موت ان پر وارد ہو جاتی ہے۔یعنی بکلی وہ روحیں نیست کی طرح ہو جاتی ہیں اور صفات حیات زائل ہو جاتی ہیں اور ایسی روح جو دراصل مرتی نہیں۔مگر مرنے کے مشابہ ہوتی ہے۔وہ روح کی وہ حالت ہے کہ جب انسان سوتا ہے۔تب وہ حالت پیدا ہوتی ہے۔اور ایسی حالت میں بھی روح خدا تعالیٰ کے قبضے اور تصرف میں آ جاتی ہے۔اور ایسا تغیر اس پر وارد ہو جاتا ہے کہ کچھ بھی اس کی دنیوی شعور اور ادراک کی حالت اس کے اندر باقی نہیں رہتی۔غرض موت اور خواب دونوں حالتوں میں خدا کا قبضہ اور تصرف روح پر ایسا ہو جاتا ہے کہ زندگی کی علامت جو خود اختیاری اور خودشناسی ہے۔بکلی جاتی رہتی ہے۔پھر خدا ایسی روح کو جس پر در حقیقت موت وارد کر دی ہے واپس جانے سے روک رکھتا ہے۔اور وہ روح جس پر اس نے در حقیقت موت وارد نہیں کی اس کو پھر مقرر وقت تک دنیا کی طرف واپس کر دیتا ہے۔اس ہمارے کاروبار میں ان لوگوں کیلئے نشان ہیں۔جو فکر اور سوچ کرنے والے ہیں یہ ہے ترجمہ مع شرح آیت ممدوحہ بالا کا۔اور یہ آیت موصوفہ بالا دلالت کر رہی ہے کہ جیسی جسم پر موت ہے۔روحوں پر بھی موت ہے۔لیکن قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ ابرار اور اخیار اور برگزیدوں کی روحیں چند روز کے بعد پھر زندہ کی جاتی ہیں۔کوئی تین دن کے بعد، کوئی ہفتہ کے بعد، کوئی چالیس دن کے بعد۔اے اللہ نفسوں کو ان کی موت کے وقت وفات دیتا ہے ( قبض کرتا ہے جان کو )