حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 62
حقائق الفرقان ۶۲ سُورَةُ صَ تفسیر ضعنا ۔ دو چار دس پانچ پتلی پتلی تھجیاں ۔ جس میں پتے بھی آخر پر ہوں۔ ان کو ایک جگہ کرنا۔ مثلاً جھاڑو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۵) یہ سورۃ مکی ہے۔ اشارہ بہ ہجرت ۔ چنانچہ آپؐ کو مدینہ میں مکہ کی بی بی کے علاوہ مدینہ میں اور بیبیاں بھی دلا دیں۔ ضعنا ۔ مٹھا ٹہنیوں کا ۔ فَاضْرِبُ به - مارو جانور کو (اور جلدی پہنچو ) ۔ وَلَا تَحنث ۔ مگر اسے زیادہ تکلیف نہ دو۔ ( تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸) دوسری کتابوں کے قصے اور خدا کی کتاب میں جو واقعہ گذشتہ بیان ہو اس میں فرق یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں صرف قصہ نہیں ہوتا بلکہ بتایا جاتا ہے کہ جو ایسا کرے گا وہ بھی انہی انعامات سے سرفراز ہوگا ۔ چنانچہ و ذكرى لِأُولِي الْأَلْبَابِ اور كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ایسے پاک کلمات سے ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبر ۲ ۔ ماہ فروری ۱۹۱۳ ء صفحہ ۸۷-۸۸) مفحہ ۸۷-۸۸) ۴۶ - وَاذْكُرُ عِبْدَنَا ابْراهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ - ترجمہ ۔ اور یاد کر ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کو جو بڑی طاقت اور عقل والے تھے۔ تفسیر - الابصار ۔ بڑی بصیرت والے۔ فلاسفر اور نبی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ فلاسفر تو اپنی تحقیقات میں غلطیاں پاتا ہے اور دوسرے لوگوں کو منع کرتا ہے کہ تم اس غلطی میں نہ پڑنا ۔ یا ہلاک ہو جاتا ہے تو دوسرے لوگ اس سے بچتے ہیں لیکن ایک نبی کو کبھی ایسا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۵) ۵۱ - جَنَّتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ - ترجمہ ۔ سدار ہنے کے لئے باغ اُن کے لئے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے ۔ تفسیر - جنتِ عَدْنٍ کے متعلق تو ریت میں لکھا ہے۔ جہاں سیحون ، جیحون ، دجلہ، فرات بہتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۵)