حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 60
حقائق الفرقان سُوْرَةُ صَ کو فرصت ہے اور نہ شاگردوں کو۔میں نے بعض اوقات بڑے بڑے استادوں سے دریافت کیا ہے کہ اسناد کے سلسلہ کی کتابوں میں سے پانچ مستند کتابوں کا صرف نام تو لے دو۔تو نہ لے سکے۔تیسری بات قرآن کریم۔قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کا ذکر موجود ہے۔لوگ جھگڑے کرتے ہیں کہ خضر، آدم ، لقمان بھی تھے یا نہ تھے۔حالانکہ اس بحث کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس شخص کی باتیں جو قرآن کریم نے خوبی کے طور پر بیان کی ہیں۔ہم کو چاہیے کہ ان باتوں پر عمل کریں۔ایک شخص نے سورہ یوسف میں بیان کیا ہے کہ عشق و حسن تو خدا تعالیٰ کو بھی پسند ہے۔اَحْسَنَ القَصَصِ میں فقص۔قاف کی زیر سے قصہ کی جمع نہیں ہے۔جمع در اصل ق کی زیر سے ہے۔سورہ یوسف میں دراصل بیان ہے کہ ایک نوجوان آدمی گھر کی سردار عورت سے کس طرح برتاؤ کرے۔کس طرح صبر کرے۔کس طرح سلوک کرے۔قرآن کریم ہر موقع پر اس قسم کی نصائح بیان فرماتا ہے۔مسلمانوں نے قرآن کریم کے بیانات حضرت داؤد کے قصہ میں خداوند تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کی تاریخ نہیں رکھی۔خطر ناک سفر سے اطلاع دی ہے۔وَاذْكُرُ عَبْدَنَا أَيُّوبَ یاد کرو ہمارے ایک بندے کو جس کا نام ایوب تھا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۵) حضرت ایوب کسی سفر میں گئے تھے۔مسنی الشیطن کسی تکلیف کی شکایت کی۔( تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸) ٤٣ - اُرُكُضُ بِرِجْلِكَ هُذَا مُغْتَسَلُ بَارِدُ وَ شَرَابٌ۔ترجمہ۔اللہ نے فرمایا تیرا پاؤں زمین پر ماریہ ہے نہانے کے لئے چشمہ ٹھنڈا اور پینے کے لئے۔تفسیر۔انگض برجلك۔اپنے سواری کے جانور کو ایڑی مارو۔جلدی چلا ؤ اور پانی کے چشمہ پر