حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 47 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 47

حقائق الفرقان ۴۷ سُورَةُ صَ ♡ - وَ عَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَفِرُونَ هُذَا اسْحِرُ كَذَّابٌ - ترجمہ ۔ اور انہوں نے اس بات سے تعجب کیا کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا بھی انہیں میں سے آیا اور کافروں نے کہا یہ تو دھوکا باز بڑا جھوٹا لپائی ہے۔ تفسیر - مُنْذِرُ مِنْهُم - حالانکہ ان کے حکماء وعلماء ومقتن و پولیس مین و مین و بادشاہ انہی سے ہوتے ہیں ۔ پس رسول کا انہی میں سے آنا فطرت کے خلاف نہیں ۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۷۷) اور وہ حیران ہوئے کہ انہی میں سے ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا اور ان منکروں نے کہا یہ جھوٹا جادوگر ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹۱ حاشیہ ) ٦ - أَجَعَلَ الْأَلِهَةَ الهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ - ترجمہ ۔ کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنادیا۔ یہ بات تو بہت ہی تعجب کی ہے۔ تفسیر۔ دیکھو اس نے متعدد معبودوں کو ایک ہی معبود بناڈالا ۔ یہ تو اچنبھے کی بات ہے۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۹۱ حاشیہ ) بعض لوگوں نے قرآن مجید کی زبان پر اعتراض کیا کہ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَاب اور كُبَّارًا اور هُزُوًا یہ خلاف محاورہ و غیر فصیح الفاظ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے کسی زبان دان بوڑھے کو بلالا و چنانچہ ایک کو مجلسِ نبوی میں لائے۔ آپؐ نے اسے فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ جب بیٹھا تو فرمایا۔ ذرا اٹھنا۔ پھر بیٹھا تو پھر فرمایا۔ ذرا آپ اٹھ کر اس طرف تشریف رکھ لیں ۔ جب وہ اس طرف بیٹھا تو پھر آپ نے فرمایا ۔ آپ ذرا یہاں سے اٹھئے اور ادھر آجائے تو وہ جھنجھلا کر بول اٹھا ۔ يا محمد أَتَتَّخِذُنِي هُزُوًا وَ أَنَا شَيْخُ كُبَّارُ إِنَّ هَذَا الشَيْنُ عُجَابٌ ۔ اے محمدؐ کیا تو مجھے خفیف بنانا چاہتا ہے حالانکہ میں ایک بڑھا ، بڑی عمر کا آدمی ہوں ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے ۔ اس طرح پر وہ تینوں الفاظ اس زبان دان تجربہ کار ، فصیح و بلیغ بڑھے کے منہ سے نکلوائے ۔ اور معترضین نادم ہو کر دم بخودرہ گئے ۔ تشحید الاذہان جلدے نمبر ۲۔ ماہ فروری ۱۹۱۲ ء صفحہ ۸۵ )