حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 46
حقائق الفرقان ۴۶ سُوْرَةُ صَ سُوْرَةُ صَ مَكيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورۃ ض کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے اسم شریف سے جو رحمن و رحیم ہے۔۲، ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَ شِقَاقٍ - ترجمہ۔ہم ایک صادق کا ذکر کرتے ہیں اور قسم ہے نصیحت کرنے والے قرآن کی۔ہاں جن لوگوں نے انکار کیا، حق کو چھپایا وہ ہیکڑی اور سخت اختلاف میں پڑے ہیں۔تفسیر۔ص۔اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ذى الذكر۔یہ فطرت ہے کہ انسان بلند پروازی چاہتا ہے۔شرافت والے تاریخی آدمی تم بن جاؤ گے۔شقاق۔رسول سے ہٹ جانے کی راہ۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳، ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۳) ص - صادق ذى الذكر۔فطرت کو جگانے ، بھولی ہوئی باتیں یاد دلانے کیلئے قرآن آیا۔مسئلہ تثلیث و کفارہ ، بت پرستی انسان کی فطرت میں ہرگز نہیں۔( تشخیز الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ صفحہ ۴۷۷) -- كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ فَنَادَوا وَ لَاتَ حِيْنَ مَنَاصِ - ترجمہ۔( اور انہیں معلوم نہیں) کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی بستیاں اور سنگتیں ہلاک کر ڈالیں تو وہ پکار پکار کے چلائے جب کہ بھاگنے کا موقع ہرگز نہیں ہے ( خلاصی کا وقت جا تا رہا )۔فَنَادَوا۔پس چلا اٹھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳، ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۴)