حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 41
حقائق الفرقان ۴۱ سُورَةُ الصَّقْتِ بجالائے انشاء اللہ تعالی مجھے آپ صابر پاویں گے۔اس وعدہ پر پکار ہوں گا۔اب ذرا دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بچے کو جس نے اپنے آپ کو حکم الہی کے موجب گویا ذبح کرواہی لیا کیا کیا اجر دیئے۔وہ لڑکا جس نے رضا الہی کے لئے مرنے سے پہلے مرنا اختیار کیا خدا نے اسے کیسا زندہ کیا کہ قیامت تک بادشاہ لوگ اپنے آپ کو اس کی اولاد میں سے ہونے کا فخر کرتے رہیں گے۔اس کی اولاد کے بچے بھی سید یعنی سردار کہلاتے ہیں۔خدا نے اس کا نام صادق الوعد رکھ دیا۔کیا یہ کوئی چھوٹے بدلے ہیں۔نہیں نہیں یہ بڑی بات ہے جو ہر ایک کے نصیب نہیں ہوتی۔سرور کائنات بھی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔کیا یہ کوئی تھوڑی بات ہے مگر کیا وجہ۔وہی کہ اس نے خدا کو ناراض نہ کرنا چاہا۔اس کی رضا کے لئے مرنے سے پہلے مرنا اختیار کیا۔خدا عملوں کو دیکھتا ہے ظاہر شان و شوکت پر ہی یہ انعامات منحصر نہیں جس کو چاہے چن لیوے۔( الحکم جلد نمبر ۱۹٬۱۸ مورخہ ۶ و ۱۳/ جولائی ۱۸۹۸ء صفحه ۱۲) ۱۰۴ تا ۱۰۶ - فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَا بْرَاهِيمُ - قَدْ صَدَّقْتَ الدُّنْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ - ترجمہ۔پھر جب دونوں تعمیل حکم پر آمادہ ہوئے اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑا۔اور ہم نے اس کو زور سے پکارا اے ابراہیم! تو نے اپنار و یا سچا کر دکھایا ( اور تو صدیق اور خلیل ہو گیا ) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنوں کو۔تفسیر۔جب وہ دونوں خدا تعالیٰ کے حکم پر راضی ہو گئے اور ابراہیم نے اسے منہ کے بل زمین پر لٹایا۔ہم نے آواز دی۔اے ابراہیم ! تو نے اپنی رؤیا کو سچا کر دکھایا۔ہم محسنوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۲۱) صَدَّقْتَ الدُّنْيَا- سیر یا ( شام ، جانب شمالی عرب جس میں بیت المقدس فلسطین ہے) کے ملک میں انسانی قربانی کا رواج تھا چنانچہ میسی تعلیم کی جڑ بھی یہی ہے۔اسی بناء پر وہ خدا کے اکلوتے بیٹے کی قربانی پر ایمان لاتے ہیں۔ہند میں بلید ان کا رواج تھا۔جے پور میں اب بھی اس جگہ روز بکرا ذبح ہوتا ہے۔