حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 40
حقائق الفرقان ۴۰ سُورَةُ الصَّفت کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔باقی جو کچھ آپ نے لکھا ہے سب کا سب جھوٹ اور افتراء اور محض لغو ہے اور قرآن اور احادیث صحیحہ میں اس کا ذرہ ذکر نہیں اور جس قدر قرآن میں ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔کیوں کہ اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ بیٹے کو ذبح کرتے ہیں نہ یہ کہ ذبح کر دیا جیسے قرآنی لفظ إني أرى فِي الْمَنَامِ انّى اَذْبَحُكَ (الصافات : ۱۰۳) گواہی دیتا ہے اس قابل قدر عرفان سے بھرے ہوئے واقعہ پر اعتراض بجز سیاہ دل کور باطن حقیقت نا آشنا کے اور کون کر سکتا ہے؟ سنو! ابراہیم علیہ السلام کی عمر اس وقت نانوے برس کی تھی اور اسماعیل اس کے اکلوتے بیٹے کی تیرہ برس کی۔اتنے عمر کے باپ کو آئندہ اور اولاد کی امید کہاں اور بیٹے کی امیدیں اور امنگیں مرنے کے بعد کہاں ! باپ کا اپنے خواب کے خیال کو اظہار کرنا اور بیٹے کا یہ کہہ دینا افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سچی الہی محبت کا نشان ہے جس کی قدر بدوں زندہ دل کے کون کر سکتا ہے؟ اس بات کو ہم قربانی کے مسئلہ میں کسی قدر تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا جلد ا ص ۵۵ میں ہے کنعانیوں میں جو قدیم باشندے فلسطین کے تھے انسانی قربانی کا رواج تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو ان میں مانے ہوئے بزرگ اور ذی رعب تھے باہمہ جاہ و حشمت بیٹے کی قربانی پر با ایں کہ بیٹا بھی راضی ہو چکا تھا مینڈھا ذبح کر دیا اور اس طریق سے انسانی قربانی کے بجائے حیوانی قربانی قائم کر دی اور اب تک گویا کروڑوں جانوں کو بچالیا بَارَكَ اللهُ عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِهیم - نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۲۱، ۲۲۲) ( حضرت ابراہیم علیہ السلام تم جانتے ہو گے ایک بڑے عظیم الشان خدا کے پیارے نبی گزرے ہیں۔ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ گویاوہ اپنے بیٹے اسمعیل کو ذبح کرتے ہیں اس وقت اس بچے کی عمر معلوم ہوتا ہے کہ قریبا تیرہ برس کی تھی۔حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو کہا کہ بیٹے میں نے دیکھا ہے کہ تم کو ذبح کرتا ہوں بیٹے کی فرمانبرداری دیکھو کہ کوئی عذر نہیں کیا بلکہ کہہ دیا کہ يابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصّبِرِينَ (الصفت : ۱۰۳) اے باپ جو آپ کو حکم ہوا ہے اسے