حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 38
حقائق الفرقان دوو ۳۸ سُوْرَةُ الصَّقْتِ نے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (المؤمن: ۵۲) فرمایا۔اس نے سب پر فتح دی۔صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا تم اپنے بھائیوں کا جتھا نہ چھوڑو۔ایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔اس پر صحابہ سے ایک خطر ناک آواز سنی اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔یہ حضرت نبی کریم کے اللہ کے حضور بار بار جان قربان کرنے کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں شار مرید ملے۔آخر وہ جو باپ بنتے تھے۔جو تجربہ کار تھے۔ہر طرح کی تدبیریں جانتے ان سب کے منصو بے غلط ہو گئے۔اور وہ خدا کے حضور قربانی کرنے والا متقی نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ اپنے خلفاء راشدین کیلئے بھی یہی وعدہ لے لیا۔( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۸-۹) بخاری شریف جو قرآن مجید کے بعد دنیا کی تمام کتابوں سے زیادہ صحیح اور زیادہ واجب التعظیم ہے۔اس میں ایک حدیث آئی ہے۔اس کو نقل کرتا ہوں۔حدیث۔قَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَهَاجِرُ مِنْ مَّكَّةَ إِلى أَرْضِ بِهَا نَخْلُ فَذَهَبَ وَهَلِى إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرْ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ - (ترجمہ) ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہجرت کروں مکہ سے ایک زمین کی طرف جس میں کھجوروں کے باغ ہوں۔پس گیا میرا اجتہاد اس بات کی طرف کہ وہ جگہ یمامہ نام مقام ہے یا ہجر نام گاؤں ہے۔مگر آخر معلوم ہوا کہ وہ مدینہ تھا۔اب دیکھئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھی اور جیسا کہ حضرت ابراہیم کا فقرہ ہے ویسا ہی آپ کا ہے۔چنانچہ حضرت ابرہیم فرماتے ہیں کہ ائی ارى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ اور ایسا ہی فقرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔رَنَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ یعنی مجھے خواب میں ارشاد ہوا کہ میں ہجرت کروں اور جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب وحی الہبی اور امر الہی تھی۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب بھی وحی الہی تھی۔اور اس میں ہجرت کا حکم تھا جیسا کہ لے بے شک ہم مدد کرتے ہیں اپنے بھیجے ہوؤں کی اور ایمانداروں کی دنیا ہی کی زندگی میں۔