حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 37

حقائق الفرقان ۳۷ سُوْرَةُ الصَّقْتِ اللهُ مِنَ الصبرین۔ابا جی۔وہ کام ضرور کرو جس کا حکم جناب الہی سے ہوا۔میں بفضلہ صبر کے ساتھ اسے برداشت کروں گا۔یہ ہے تقویٰ کی حقیقت۔یہ ہے قربانی۔قربانی بھی کیسی قربانی کہ اس ایک ہی قربانی میں سب ناموں ، امیدوں ، ناموریوں کی قربانی آگئی۔جو اللہ کے لئے انشراح صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔اللہ بھی ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔اس کے بدلے ابراہیم کو اتنی اولا د دی گئی کہ مردم شماریاں ہوتی ہیں مگر پھر بھی ابراہیم کی اولا د صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنیٰ ہے۔کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہو ئیں۔کیا کیا انعام الہی اس پر ہوئے کہ گنے میں نہیں آ سکتے۔ہماری سرکار خاتم الانبیاء سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیمؑ کی اولا د سے ہوئے۔پھر اس کے دین کی حفاظت کے لئے خلفاء کا وعدہ کیا کہ انہیں طاقتیں بخشے گا اور ان کو مشکلات اور خوفوں میں امن عطا کرے گا۔یہ کہانی کے طور پر نہیں۔یہ زمانہ موجود ، یہ مکان موجود ، تم موجود ، قادیان کی بستی موجود ، ملک کی حالت موجود ہے۔کس چیز نے ایسی سردی میں تمہیں دور دور سے یہاں اس مسجد میں جمع کر دیا۔سنو! اسی دست قدرت نے جو متقیوں کو اعزاز دینے والا ہاتھ ہے۔اس سے پہلے پچیس برس پر نگاہ کرو تم سمجھ سکتے ہو کہ کون ایسی سخت سردیوں میں اس گاؤں کی طرف سفر کرنے کے لیے تیار تھا۔پس تم میں سے ہر فرد بشر اس کی قدرت نمائی کا ایک نمونہ ہے۔ایک ثبوت ہے کہ وہ متقی کے لئے وہ کچھ کرتا ہے جو کسی کے سان وگمان میں بھی نہیں ہوتا یہ باتیں ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں۔یہ قربانیوں پر موقوف ہیں۔انسان عجیب عجیب خوابیں اور کشوف دیکھ لیتا ہے۔الہام بھی ہو جاتے ہیں۔مگر یہ نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔جس آدمی کی یہ حالت ہو وہ خوب غور کر کے دیکھے کہ اس کی عملی زندگی کس قسم کی تھی۔آیا وہ ان انعامات کے قابل ہے یا نہیں۔یہ (مبارک وجود ) نمونہ موجود ہے۔اسے جو کچھ ملا۔ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے خداوند کے حضور گزاریں۔جو شخص قربانی نہیں کرتا۔جیسی کہ ابراہیم نے کی اور جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کے لئے نہیں چھوڑتا۔تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا۔جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔حضرت نبی کریم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے۔مگر وہ خدا جس