حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 448
۴۴۸ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ حقائق الفرقان پر یوں نازل ہوا۔کو تقول عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِینَ۔اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنالیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے۔حالانکہ وہ اس کا اپنا کلام ہوتا۔نہ خدا کا۔تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا کیسا صاف اور سچا معیار ہے کہ مفتری کی سزا ہلاکت ہے۔اور اسے کوئی مہلت نہیں دی جاتی یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی کیسی روشن دلیل اور ہر صادق مامور من اللہ کی شناخت کا کیسا خطا نہ کرنے والا معیار ہے۔مگر اس پر بھی نادان کہتے ہیں کہ نہیں مفتری کو مہلت مل جاتی ہے !!! یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی۔اب کیا مشکل ہے جو ہم اس زمانہ کو جو مفتری کے ہلاک ہونے اور راست باز کے راست باز ٹھہرائے جانے پر بطور معیار ہوسکتا ہے۔سمجھ لیں۔اس آیت کے نزول کا وقت صاف بتاتا ہے۔مگر اندھوں کو کون دکھا سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ جامع جمیع کمالات تھے۔آپ کی امت ان تمام برکات اور فیوض کی جامع ہے۔جو پہلی امتوں پر انفرادی طور پر ہوئے اور آپ کے اعداء تمام خسرانوں کے جامع جو پہلے نبیوں کے مخالفوں کے حصہ میں آئے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب سورہ شعراء میں ہر نبی کا قصہ بیان فرماتا ہے تو اس کے بعد فرماتا ہے اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ - الحكم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۶) غرض یہ آیت کو تقول والی ہر ایک مفتری اور صادق مامور من اللہ میں امتیاز کرنے والی اور صادق کی صداقت کا کامل معیار ہے۔لیکن اگر کوئی نادان یہ کہے کہ اس سے تاریخ کا پتہ کیونکر لگا ئیں اور میعاد مقررہ کیونکر معلوم ہو؟ میں کہتا ہوں۔ان امور کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔اگر اس پر بھی کوئی یہ کہے کہ مکی اور مدنی آیتوں کا تفرقہ مشکلات میں ڈالتا ہے اور اصطلاحات میں اب تک بھی اختلاف چلا آتا ہے تو میں کہتا ہوں۔اس سے بھی ایک آسان تر راہ ہے۔اور وہ یہ ہے کہ تم اس آیت کو آخری آیت ہی تجویز کر لو پھر بھی تم کو مانا پڑے گا کہ تئیس برس تک خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت عظمت و جبروت، عزت و وجاہت، تائید و نصرت، دشمن کے خسران کے لئے ایک