حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 446 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 446

حقائق الفرقان ٤٤٦ سُورَةُ الْحَاقَّةِ شاعر کبھی کوئی ایسا نہیں گزرا کہ جس کے کلمات اور اشعار پیشگوئیوں پر مبنی ہوں جو پوری ہو جائیں۔ شاعر کے کلام کا اثر آنی ہوتا ہے۔ لیکن قرآن شریف کا اثر دیر پا ہے۔ گاھیں ۔ کہانت کرنے والا۔ اسپریچیولزم کا ماہر۔ یہ لوگ بڑے بڑے مجاہدات اور ریاضات سے ایک علم حاصل کرتے ہیں۔ مگر ان کی اکثر باتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور ان کے کلمات میں دروغ بہت شامل ہوتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلدا انمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۶) یہ بات ہے ایک پیغام لانے والے سردار کی اور نہیں یہ بات کسی شاعر کی تم تھوڑا یقین کرتے اور نہ یہ بات کا ہن کی تم تھوڑا دھیان کرتے۔ فصل الخطاب المقدمه اهل الكتاب صفحه ۳۴) کوئی جھگڑے کی بات نہیں ۔ ہم شہادت پیش کرتے ہیں ان امور کو جو تم دیکھتے ہو اور پھر ان کو جو ابھی ظہور میں نہیں آئے اور تم نہیں دیکھتے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ یہ قرآن مجید کسی کے خیالی پلاؤ نہیں ۔ بلکہ ایک معزز پیغمبر کے ذریعہ پہنچا ہے۔ اور رب العالمین کا نازل شدہ کلام ہے۔ تشخیذ الاذہان جلدے نمبر ۵ ۔ ماہ مئی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۲۳۰) ۴۵ تا ۴۸۔ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ - ترجمہ۔ اور اگر کوئی بات بنالا تا یہ پیغمبر ہم پر خود تو ہم پکڑ لیتے اس کا داہنا ہاتھ ۔ پھر کاٹ ڈالتے اُس کی رگِ گردن ۔ پھر تم میں کوئی بھی اس کو روک نہیں سکتا ( یعنی اس کے قتل کو ) ۔ تفسیر - تقول ۔ جھوٹی بات بنانا۔ اس میں اس پیشگوئی کی طرف بھی اشارہ ہے جو توریت میں مثیل موسی کے لئے کتاب استثناء باب ۱۸ میں مذکور ہے کہ اس نبی کی صداقت کا یہ نشان ہے کہ اگر وہ افتراء کرے گا تو قتل کیا جاوے گا۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی ایک دلیل ہے کہ نہ وہ قتل ہوئے ۔ نہ ناکام رہے اور اس طرح پر آئندہ کے لئے ہر صادق مامور کے واسطے یہ ایک نشان ہوا کہ کوئی مفتری علی اللہ افتراء کر